شوہر کی غ ل ط یاں بیوی تب تک شوہر کے آگے زبان نہیں چلاتی

بیوی اپنے شو ہر سے اس وقت تک لڑتی یا ضد کرتی ہے جب تک اس سے پیار کی امید ہوتی ہے جب وہ امید ختم ہوجاتی ہے تو وہ لڑنا اور ضد کرنا بند کردیتی ہے۔ اکثر مرد اس بات کا شکوہ کرتے ہیں کہ بیوی آگے سے زبان چلاتی ہے لیکن بعض اوقات شوہر خود ہی بیوی کو اس بدتمیزی پر مجبور کردیتا ہے جب وہ اس کے والدین یا گھر والوں

کو گالی دیتا ہے ۔ ایک عورت اپنی ذات کے بارے سب کچھ سن کر برداشت کرلیتی ہے لیکن جب اس کے والدین یا گھروالوں کو گ الی دی جائے تو وہ آگے سے بولنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ کسی کو گ الی دینا ہمارے مذہب میں حرام ہے ، اگر آج آپ کسی کی بہن، بیٹی کو گ الی دیں گے توکل آپ کی بہن ، بیٹی کو بھی گ الی اں سننی پڑیں گی پھر برداشت کرے گا۔ ہر میاں بیوی پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب کچھ لوگ ان کے رشے کوکمزور کرنے کی

کوشش کرتے ہیں ۔ جو اس مشکل وقت میں نکل گیا وہ سکھی اورجو لوگوں کی باتوں میں آگیا، اس کا مقدر نہ ختم ہونے والا دکھ ہے۔ بہت سے رشتے ختم ہونے کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ایک صیحح بول نہیں پاتا اور دوسرا صیحح سمجھ نہیں پاتا مرد کومشکل وقت میں مضبوط کاندھا نہیں چاہیے ہوتا بلکہ اسے ایک نرم و نازک سی آغوش چاہنے ہوتی ہے۔ بچپن میں تویہ سہار ا ماں یا بہن دے دیتی تھی لیکن شادی کے بعد مرد اپنی بیوی سے اسی اخلاقی وجذباتی حمایت کی امید لگا لیتا ہے ، اسی لیے جب وہ کبھی ٹوٹتا دکھائی دے تو اسے فوراً سمیٹ لو ورنہ بکھر گیا۔ تو تمہیں بھی سہارا دینے کے قابل نہیں رہے گا، اور ٹوٹے ہوئے کان سے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے