قیامت کی نشانیاں پوری ہونے لگی ہیں ، شیطان کیسے مرے گا؟ وہ وقت جب فرشتے بھی وفات پاجائیں گے

اردو میڈیم نیوز! قیامت سے پہلے انتہائی آخری وقت میں جنوب کی طرف سے ایک نہایت فرحت افزا ہوا چلے گی جس کے سبب ہر صاحب ایمان شخص کی بغل میں ایک درد اٹھے گا اور وہ اپنی فضیلت کے حساب سے مرنا شروع ہوجائیں گے، یعنی جو جتنا زیادہ نیک ہوگا وہ اتنی جلدی فوت ہوجائے گا۔ جب تمام اہل ایمان اس دنیا سے ختم ہوجائیں گے تو

اس وقت دنیا پر حبشہ والوں کا غلبہ ہوجائے گا اور پوری دنیا پر ان کی ہی حکومت ہوگی۔ صحیح بخاری و مسلم میں روایت ہے کہ حبشہ والوں کی جب حکومت آئے گی تو وہ خانہ کعبہ کو گرادیں گے اور حج موقوف ہوجائے گا، اس وقت قرآن مجید فرقان حمید دلوں، زبانوں اور کاغذوں سے اٹھالیا جائے گا، خدا ترسی، حق شناسی، خوفِ آخرت

لوگوں کے دلوں سے ختم ہوجائے گا اور شرم و حیا جاتی رہے گی، لوگ راستوں پر گدھوں اور کتوں کی طرح زنا کریں گے۔ اس وقت حکام کا ظلم اور ان کی جہالت ، رعایا کی ایک دوسرے پر دست درازی بڑھ جائے گی ، پھر دیہات ویران ہوجائیں گے، بڑے بڑے قصبے گاؤں کی طرح اور بڑے بڑے شہر معمولی قصبوں کی طرح ہوجائیں گے،

قحط، وبا اور غارت گری کی آفتیں ایک کے بعد ایک نازل ہوں گی۔ اس وقت میں جماع یعنی جسمانی تعلق بہت زیادہ قائم ہوگا لیکن اس کے مقابلے میں اولاد پیدا ہونے کی شرح انتہائی کم ہوگی ۔ جہالت اتنی زیادہ ہوجائے گی کہ کوئی شخص اللہ کا نام لینے والا نہیں ہوگا، یعنی کسی شخص کی زبان پر اللہ کا لفظ ہی نہیں ہوگا، پوری دنیا میں فتنے بڑھ جائیں گے جس کے بعد بہت سے لوگ آفتوں سے تنگ آکر اپنے اہل و عیال کے ساتھ شام کی طرف چلنے لگیں گے۔ اس دوران جنوب سے ایک آگ نمودار ہوگی اور لوگوں کی طرف بڑھنا شروع ہوجائے گی، لوگ اس آگ سے

خوف کھا کر بے تحاشہ بھاگیں گے، بھاگنے والے لوگ دوپہر کو تھک جائیں گے اور اپنی عاجزی کا اظہار کردیں گے تو یہ آگ بھی ٹھہر جائے گی جس کے بعد یہ لوگ آرام کریں گے، صبح ہوتے ہی آگ پھر ان لوگوں کا پیچھا کرے گی ، انسان اس سے بھاگیں گے ، یہ آگ انہیں اسی طرح پیچھا کرتے کرتے ملکِ شام تک پہنچادے گی اور پھر غائب ہوجائے گی۔ جب آگ غائب ہوگی تو بعض لوگ اپنے اپنے وطن کی طرف واپس لوٹ جائیں گے لیکن بہت سے لوگ شام میں ہی موجود ہرہیں گے۔ اس کے بعد لوگ تین یا چار سال تک غفلت میں پڑے رہیں گے اور دنیاوی نعمتیں، دولت اور

شہوت رانی بکثرت ہوجائے گی، اسی دوران جمعہ کے روز دسویں محرم کو صور پھونکا جائے گا۔ یہ ایک باریک اور لمبی آواز ہوگی جو ہر طرف کے لوگوں کو یکساں سنائی دے گی اور لوگ حیران ہوں گے کہ یہ کیسی آواز ہے، آہستہ آہستہ صور کی آواز بجلی کی کڑ کی طرح سخت اور اونچی ہوجائے گی ، اس شدید آواز سے انسان بے قرار ہوجائیں گے ، جب صور کی آواز پوری طرح سخت ہوجائے گی لوگ ہیبت کی وجہ سے مرنا شروع ہوجائیں گے، زمین میں زلزلہ آجائے گا اور اس کے خوف سے لوگ گھروں کو چھوڑ کر میدانوں میں بھاگ کھڑے ہوں گے ، زمین جگہ جگہ سے پھٹ جائے گی ، سمندر ابل کر قرب و جوار کی بستیوں پر چڑھ جائیں گے، وحشی جانور انسانوں کی طرف بڑھیں

گے، آگ بجھ جائے گی ، بلندو بالا پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر تیز ہوا کے چلنے سے ریت کی طرح اڑتے پھریں گے گردو غبار کے اٹھنے اور آندھیوں کے آنے کی وجہ سے پوری دنیا تاریک لگنے لگے گی ۔ اس دوران صور کی آواز مزید سخت ہوجائے گی حتیٰ کہ اس کے ہولناک ہونے پر آسمان بھی پھٹ جائیں گے اور ستاڑے ٹوٹ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ صور کی وجہ سے سب انسان ہلاک ہوجائیں گے تو ملک الموت شیاطین کی روح قبض کرنے کی طرف متوجہ ہوں گے، یہ ملعون چاروں طرف دوڑتا پھرے گا مگر فرشتے اسے پکڑیں گے اور پھر اس کی روح قبض کرلی جائے گی اور مسلسل 6ماہ تک صور پھونکا جاتا رہے گا ۔