ویسے تو دنیا میں کئی ایسی شخصیات موجود ہیں جنہیں بطور نشانی آج بھی محفوظ رکھا ہوا ہے۔ انہی میں سے ایک نشانی فرعون کی ممی ہے جو کئی سو سالوں سے لے کر آج تک موجود ہے۔ ہماری ویب کی اس خبر میں آپ کو ممیفیکیشن سے متعلق معلومات فراہم کریں گے۔ ممیفیکیشن پرانے زمانے میں مصر کے لوگوں نے ایجاد کی تھی، تاکہ مردے کے جسم کو محفوظ رکھا جا سکے۔ اس پورے عمل میں انسانی جسم کو مختلف قدرتی چیزوں کی مدد سے لپیٹا جاتا ہے اور تابوت میں بند کر دیا جاتا ہے۔

ممیفیکیشن کے وقت مردے کے جسم سے تمام اندرونی پارٹس کو نکال لیا جاتا ہے، سوائے دل کے جو کہ جسم سے نہیں نکالا جاتا ہے۔ جب اندرونی پارٹس کو نکال لیا جاتا ہے تو پھر جسم پر نمک کی تہہ چڑھائی جاتی ہے اور 40 دن تک نمک لگا کر مردے کو رکھا جاتا ہے۔ اس طرح رکھنے سے جسم سے نمی کو ختم کر دیا جاتا ہے۔ 40 دن بعد وہ جسم جس پر نمک

کی تہہ چڑھائی ہوتی ہے، جب اسے نکالا جاتا ہے تو سوکھ چکا ہوتا ہے، یعنی دھنس چکا ہوتا ہے۔ پھر اس جسم پر پرفیوم آئل لگایا جاتا ہے اور پلانٹ ریزنس لگایا جاتا ہے۔ اس کے بعد ریزنس کی ایک موٹی تہہ لگائی جاتی ہے، جو کہ گلو کا کام کرتی ہے۔ اس طرح ممیفیکیشن کا آدھا کام مکمل ہو جاتا ہے۔

ممی کو لکڑی کے ایک بورڈ پر رکھا جاتا ہے اور مزید تہہ چڑھائی جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک پراسرار بیچ ممی کے سینے کے سیدھی طرف رکھا جاتا ہے جو کہ مذہبی طور پر نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ فرعون کی ممی کے ساتھ ایک پرندہ “آئیبیس” بھی رکھا جاتا ہے جو کہ پیٹ پر موجود ہوتا ہے۔ یہ پرندہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ یہ فرعون کافی اعلیٰ اور خدا کے قریب تھا۔

اس کے بعد کتان کی پٹیوں سے ممی کو لپیٹا جاتا ہے۔ اس کے بعد فرعون کی ایک تصویر کو چہرے سے باندھا جاتا ہے۔ پھر ایک بڑے کتان کے کپڑے میں ممی کو لپیٹا جاتا ہے۔ اور پھر ممی پر سرخ رنگ کیا جاتا ہے، یہ سرخ رنگ بھی بہت کم ممی پر کیا گیا ہے۔ جبکہ مصر میں روایتی طور پر کچھ ایسی تصاویر موجود ہیں جو کہ ان کی حفاظت اور دوبارہ پیدا ہونے کے لیے لگائے جاتے ہیں۔ یہ تصاویر روغن اور سونے سے بنائی جاتی تھیں۔ اور پھر آخری میں پیروں پر اس ممی کا نام لکھا جاتا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں