Breaking News
crossorigin="anonymous">

یوکرین متحد ہے، اور یہی ہماری جیت ہے ۔۔ کامیڈی ڈرامے میں یوکرین کا صدر بننے والا اصل میں یوکرین کا صدر کیسے بن گیا؟ جانیے اس سے متعلق کچھ دلچسپ سچ

آپ نے ہندی فلم نائیک تو دیکھی ہوگی جس میں انیل کپور نے ایک دن میں وزیراعلیٰ بنے اور سارے انتظامات سنبھال کر عوام کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔ یہ تو ہوئی فلم کی بات لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی ملک کے صدر بننے سے پہلے ایک اداکار اور کامیڈین تھے۔

انہوں نے ایک کامیڈی سیریز ” سرونٹ آف دی نیشن ” میں ملک کے صدر کا کردار ادا کیا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کو پورے ملک میں خوب پسند کیا گیا تھا۔ یہ جان کر آپ کو یقیناً ایسا لگ رہا ہوگا کہ یہ کوئی مذاق ہے یا کوئی فلمی کہانی۔ لیکن یہ حقیقت ہے۔

جب کامیڈی سیریز میں ولادیمیر زیلنسکی صدر بنے تھے اس وقت انہوں نے ایک ایسی تقریر کی تھی جو بہت جذباتی تھی۔ اس تقریر کی وجہ سے ولادیمیر زیلنسکی کی شہرت عوام میں بہت زیادہ بڑھ گئی تھی۔ اس تقریر کا ایک جملا جو یوکرین بھر میں مشہور ہوا وہ : ” یوکرین متحد ہے، اور یہی ہماری جیت ہے۔”

یہ ڈرامہ 2015 میں بنایا گیا تھا اور ولادیمیرز 2019 میں ملک کے صدر کے روپ میں سامنے آئے۔ انہوں نے یوکرین کی ہی ایک جامعہ سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی لیکن ان کو اداکاری کا شوق تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی اداکاری کے ہنر پر غور کیا۔ لیکن وقت اور حالات نے اس اداکار کو ملک کے لیڈر کے طور پر کھڑا کردیا۔ دراصل جب 2018 میں یوکرین

کے حالات خراب ہوئے اور اس کے سابق صدر وکٹر یانوکوچ کو عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا تو کسی ایسے صدر کی ضرورت تھی جو ملک کو سنبھال سکے۔ اس وقت سے قبل یعنی 2018 کے آخر میں ولادیمیر نے اپنی محنت اور کوشش سے اپنے ڈرامے کے نام پر ایک سیاسی جماعت رجسٹرڈ کروائی۔ ان کی سیاسی جماعت کا نام بھی ” سرونٹ آف دی نیشن ”ہے۔

ولادیمیر زیلنسکی 2019 میں صدر پیٹرو پوروشینکو کو ایک واضح مارجن سے شکست دے کر ملک کی حقیقی صدارت تک پہنچ گئے۔ ولادیمیر زیلنسکی کے انتخابی وعدوں میں ایک وعدہ یہ تھا کہ وہ اشرافیہ کے سیاسی اور معاشی اثر کو یوکرین سے ختم کریں گے لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے جبکہ اسی ضمن میں انہوں نے ملک کے کچھ ایسے لوگوںکے خلاف بھی کارروائی کی جنہوں نے خوب پیسے بٹور کر ملک کو نقصان پہنچایا لیکن اس کے علاوہ ان کو کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔

جولائی 2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر زیلنسکی سے فون پر بات کی اور مطالبہ کیا کہ وہ صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے خلاف کرپشن کی انکوائری کا اعلان کریں، جس کے بدلے انھیں امریکہ کا دورہ کرایا جائے گا اور انھیں فوجی امداد بھی ملے گی لیکن جب صدر ٹرمپ کی یوکرینی صدر سے ٹیلیفون پر بات چیت کی خبریں سامنے آئیں تو ٹرمپ پر الزام لگا کہ وہ بطور امریکی صدر اپنی حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے سیاسی حریف کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ بضد تھے کہ انھوں نے کچھ غلط نہیں کیا لیکن پھر انھیں مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ریپبلیکن پارٹی نے صدر ٹرمپ کی صدارت کو بچا لیا تھا۔ ولادیمیر کی سیب سیریز آپ بھی دیکھیں:

Check Also

معروف شیف براک برین ٹیومر کی بیماری میں مبتلا، ہسپتال سے تصاویر شئیر کر دی

ترکی کے معروف شیف اور وی لاگر براک اوزدامیر اپنے منفرد انداز سے کھانا پکانے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *