crossorigin="anonymous">

5 ہزار سے زائد گاڑیاں اور طیارے رکھنے والے سلطان ۔۔ جانیے پرنس جعفری کی ملکیت کے بارے میں چند حیران کر دینے والے حقائق

اس دنیا میں بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں جن کے پاس خزانوں اور بے تہاشا مال دولت کے دریا بہتے تھے۔ آج بھی ایک ملک میں ایک ایسا سلطان موجود ہے جس کے پاس بےپناہ دولت ہے جس کی وجہ سے انہیں دنیا کا سب

سے امیر ترین بادشاہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اور وہ ہیں برونائی دارالسلام کے سلطان حسن البولکیا جنہیں اپنی کثیر دولت٬ منفرد شان و شوکت اور شاہی جاہ و جلال کی بدولت بادشاہوں کا بادشاہ قرار دیا جاتا ہے۔ برونائی کے سلطان کی شاہانہ طرزِ زندگی مغلوں اور یونانی دور کے بادشاہوں سے مشابہہ ہے۔

لیکن آج ہم برونائی کے سلطان حسن البولکیا کے چھوٹے بھائی ‘پرنس جعفری البولکیا’ سے متعلق چند حیران کن حقائق اور ان کے پاس موجود مال و دولت اور شاہانہ طرز زندگی کے بارے میں جانیں گے۔

1- پرنس جعفری ایک عیاش ترین انسان جانے جاتے ہیں۔ جعفری کے بڑے بھائی سلطان حسن البولکیا 20 ارب ڈالر کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ سلطان کے چھوٹے بھائی جعفری اپنے بھائی حسن البولکیا سے ایک ہفتے کا 8 ملین ڈالر پاکٹ منی لیتے ہیں جو پاکستانی کرنسی میں 136 کروڑ روپے بن جاتے ہیں۔

2- ایک ویب سائٹ کے مطابق برونائی کے سلطان کے پاس 5,000 سے زائد ایکسوٹکس، اسپورٹس کاریں، نایاب اور نئی کاروں کے ایڈیشنز موجود ہیں، یہ سب ایک ایسے گیراج میں رکھے گئے ہیں جو واقعی تمام معیارات کے لحاظ سے ایک محل

کی مانند ہے۔ اطلاعات کے مطابق، وہاں 300 سے زیادہ فیراری، 20 کوینیگیگس، 6 ڈیور پورش 962 ایل ایمز، 11 میک لارن ایف ون، اور 600 رولز روائسز موجود ہیں۔ جن کی قیمت 3 ارب ڈالرز (پاکستانی روپے میں ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے 2300 گاڑیاں سلطان کے تیسرے بھائی شہزادہ جعفری اور ان کے مختلف بھتیجوں کے پاس ہیں۔اس کے علاوہ پرنس جعفری کے پاس 8 جیٹ طیارے بھی موجود ہیں۔3- عیاش سلطان جعفری کی ملکیت میں لاس اینجیلس اور نیویارک میں موجود فائیو اسٹار ہوٹلز کی پوری چین آتی ہے۔

4- پرنس جعفری کو برطانوی حکومت نے انسانی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا۔ کیونکہ یہ جب بھی لندن آتے تو جہاز بھر کر اپنے ساتھ بغیر پاسپورٹ کے بیس سے تیس ماڈلز لے آیا کرتے تھے۔

Check Also

مرغیوں کو دل کا دورہ پڑا‘، مالک نے باراتیوں پر مقدمہ کردیا۔ انوکھا کیس، آخر کیوں جانیے

بھارتی ریاست اڑیسہ میں باراتیوں کی جانب سے تیز میوزک اور ڈھول باجے کے باعث …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *