crossorigin="anonymous">

“برقع پہننا ہے یا بِکنی، اس کا انتخاب کرنا خواتین کا حق ہے” ملالہ یوسفزئی کا موقف بھی آگیا

نیویارک (ویب ڈیسک) امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی پاکستانی طالبہ اور سماجی کارکن ملالہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ برقع پہننا ہے یا بِکنی، اس کا انتخاب کرنا خواتین کا حق ہے، اس معاملے پر زبردستی نہیں ہونی

چاہیے۔ ملالہ نے اپنے انسٹا گرام پوسٹ میں لکھا کہ’ کچھ برس قبل  پہلے میں نے اپنی کمیونٹی میں خواتین کو برقع پہننے پر مجبور کرنے والے طالبان کے خلاف بات کی تھی جبکہ گزشتہ ماہ میں نے بھارت کے سکولز میں

لڑکیوں کے حجاب اتارنے پر بھی آواز اٹھائی’۔  ملالہ نے کہا کہ یہ دونوں واقعات ایک دوسرے سے مختلف نہیں بلکہ دونوں ہی صورتوں میں خواتین کو نشانہ بنایا جارہا ہے، اگر کوئی مجھے سر ڈھانپنے  پر مجبور کرے گا تو

 

View this post on Instagram

میں احتجاج کروں گی، اسی طرح کوئی مجھے اسکارف اتارنے پر مجبور کرے گا تو بھی میں احتجاج کروں گی۔ ملالہ نے کہا کہ برقع پہننا ہے یا بِکنی، یہ فیصلہ کرنے کا حق خود خواتین کو ہے، پہناوے پر تبصرے کے بجائے آئیے ہم سے انفرادی آزادی، خود مختاری ، تشدد اور نقصان کو روکنے، تعلیم اور آزادی کے بارے میں بات کریں۔

Check Also

معروف شیف براک برین ٹیومر کی بیماری میں مبتلا، ہسپتال سے تصاویر شئیر کر دی

ترکی کے معروف شیف اور وی لاگر براک اوزدامیر اپنے منفرد انداز سے کھانا پکانے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.