گرین ٹی استعمال کرنے کے ساتھ بڑے فائدے

بہت سارے لوگ آپ کو یہ کہتے نظر آئیں گے کہ گرین ٹی بہت بہترین چیز ہے وہ لوگ آپ کو گرین ٹی استعمال کرنے کے ایسے ایسے ہیلتھ بینیفٹس کے بارے میں بتائیں گے جو گرین ٹی استعمال کرنے سے ملتے بھی نہیں دوسری جانب بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ گرین ٹی استعمال کرنے سے کوئی ہیلتھ کا فائدہ نہیں ہوتا ۔

ان ٹپس کی مدد سے آپ ہیلتھیسٹ ویرینٹ تیار کر سکتے ہیں ۔ ہر کوئی اس چیز پر متفق نظر آتا ہے کہ گرین ٹی دنیا کا ہیلتھی بیوریج ہے۔یک تحقیق میں سبز چائے اور کینسر کی روک تھام کے لیے حوالے سے مثبت نتائج سامنے آئے۔ محققین کے مطابق سبز چائے میں موجود پولیفینولز نامی جز کینسر کی خلیات کو مارنے اور ان کی پیشقدمی کو

روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ سبز چائے کا استعمال کرنے والی خواتین میں علاج کے بعد بریسٹ کینسر کے لوٹنے کا امکان کم ہوتا ہے، جبکہ ایک اور امریکی تحقیق میں اسے آنتوں کے کینسر کا خطرہ 30 فیصد تک کم کرنے کے لیے بہترین بتایا گیا۔سبز چائے میں فلیونوئڈز اور اینٹی آکسائیڈنٹس کی

تعداد کافی زیادہ ہوتی ہے جو خراب کولیسٹرول کے اثرات کو کم کرنے، خون کے لوتھڑوں کی روک تھام اور شریانوں کے افعال میں بہتری لاتے ہیں۔ اسی طرح سبز چائے کولیسٹرول اور شریانوں میں بلاکیج کو کم کرتا ہے۔ روزانہ ایک سے دو کپ سبز چائے پینے والوں میں شریانوں کے سکڑنے کا خطرہ 45 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔خارش اور درد کی

روک تھام کے لیے روزانہ چار کپ سبز چائے پینا شروع کردیں۔ امریکا کی ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سبز چائے میں ایسا کیمیائی کمپاﺅنڈ ہوتا ہے جو طاقتور انسداد سوجن اور اینٹی آکسائیڈنٹ کا کام کرتا ہے جس سے جوڑوں کے امراض کا خطرہ چائے سے دور بھاگنے والوں کے مقابلے میں60 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

نیندرلینڈ کے محققین نے ایک حالیہ تحقیق میں تصدیق کی ہے کہ سبز چائے کے دو اجزاءایل تھیانائن اور کیفین توجہ اور ہوشیاری کی سطح میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔ توانائی بخش دیگر مشروبات کے مقابلے میں سبز چائے کے استعمال سے اعصابی تناﺅ اور خلجان جیسی کیفیات میں مبتلا ہونے کا امکان کم ہوتا ہے کیونکہ اس میں کیفین کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ایک او رتحقیق کے مطابق روزانہ ایک کپ

سبز چائے 55 سال سے زائد عمر کے افراد کی ذہنی صلاحیتوں کی تنزلی کا امکان کم ہوجاتا ہے۔میامی یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ سبز چائے میں شامل اینٹی آکسائیڈنٹس اجزاءدو تہائی کیل مہاسوں کو صاف کردیتے ہیں، تاہم اس کے لیے چائے کو پینے کی بجائے ٹھنڈا کرکے فیس واش کے طور پر استعمال کرنا ہوگا،

چکنی جلد کے لیے پودینے کی چائے کو سبز چائے میں شامل کرکے یہ کام کرنا ہوگا۔مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق دو سے تین کپ سبز چائے کا روزانہ استعمال پیشاب کی نالی کے انفیکشن کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس چائے میں ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس ہوتے ہیں جو مثانے کی سوجن کو کم کرتے ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین