اس بیان کو پڑھنے کے بعد آپ نماز کبھی قضا نہیں کریں گے

اس بیان کو پڑھنے کے بعد آپ نماز کبھی قضا نہیں کریں گے

ایک ہے ہم نماز پڑھ لیتے ہیں۔ آپ نے سارا پڑھ لیا۔ سارے ارکا ن بھی کرلیے۔ لیکن اگر آپ کا اللہ کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم نہیں ہوا۔ تو نماز جس کو کہاگیا ہے “الصلوۃ المعراج المومنین” ۔ جو قرب حضور کو حاصل ہوا معراج میں۔ وہ ایک بندہ مومن دنیا میں رہتے ہوئے حاصل کرسکتا ہے نماز میں۔ اگر اس کی روح واقعتاً اللہ سے ہم کلا م

ہے۔ سجدہ کے بارے میں حدیث ہے کہ سجدہ کر تو ایسے محسو س ہو گویا کہ میں نے اپنا سر اللہ کے قدموں میں رکھ دیا ہے۔ یہ ہے نماز ۔ اب جو گفتگو ہورہی ہے وہ ہم کلامی ہے۔ اہل ایمان کے حق میں یہ نماز معراج کے درجے میں ہے۔ لیکن یہ نماز کیسے نصیب ہوگی؟ اگر روح سوئی ہوئی ہے ۔ دبی ہوئی ہے۔ یا مردہ ہے۔ یہ نماز کیسی

ہے؟ چاہے آپ نے پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہوں۔ یا اپنی عادت بنالی ہو۔ چاہے کچھ بھی ہوگیا ہو۔ لیکن یہ ہے کہ جب تک روح بیدار نہ ہو۔ جب تک ہم کلا می نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوکر جب انسان کہتاہے۔ دائیں بائیں سے بالکل اپنا تعلق کاٹ کر میں نے اپنا رخ کرلیا ہے اس اللہ کی طرف جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے۔ یہ ہے

توجہ ۔ ہم نے اپنا چہرہ تو خانہ کعبہ کی طرف کردیا ہے۔ لیکن اندر سے روح متوجہ نہیں ہوئی ہے۔ وہ سوئی ہوئی ہے۔ اسے پتہ نہیں ہے کہ کیا ہورہا ہے؟ ظاہر نماز تو ادا ہوجائے گی ۔ ثواب تو مل جائے گا۔ لیکن جو اصل نماز ہے وہ تو حاصل نہیں ہوگی۔ اللہ فرماتا ہےاے نبی ! جب میرے بندوں کی روحیں بیدار ہوجائیں ، توانا ہوجائیں ،حیات توانا

سے ہم کنا رہوجائیں۔ وہ پھر میرے بارے میں پوچھیں۔ میرا تقرب حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آپ سے پوچھیں تو آپ کہیں میں قریب ہوں۔ یہ ہے وہ دعا ، میں ہر دعا کرنے والے کی دعا، ہر پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں قبول کرتاہوں ۔ اس کاجواب دیتاہوں۔ جہاں کہیں بھی مجھے پکارے۔ آپ اپنے گھر میں لیٹے ہوئے اللہ کو پکاریں۔ اپنے بستر پر اللہ کو

پکاریں۔ بعض مقامات بعض اوقات قبولیت دعا کے لیے زیادہ سازگار ہیں۔ حر م میں جا کر دعا مانگی جائے۔ منام عرفات میں خاص طور پر ، جبلہ رحمت میں خاص طور پر ، ملتزم جو خانہ کعبہ کا ہے خاص طور پر ۔ باقی ایا م بھی ہیں۔ یہ نہیں ہے بقیہ دنوں میں آپ کے اور اللہ کے درمیان کوئی بڑا فاصلہ ہے۔ یہ تو ساری دنیا میں مشرکانہ

نظام تصو ر پیدا کیا ہے۔ اللہ تو دور ہے۔ اللہ پاک ہے تم ناپاک ہو۔ تم تو بڑی پستی میں پڑے ہو تم اللہ سے براہ راست ہم کلام نہیں ہوسکتے۔ ز کوٰ ۃ ہے تو غرباء کے لیے ہے بادشاہ کے لیے نہیں ہے۔ اللہ سے ہم کلام ہونے کےلیے کسی دربان یا کسی پہرے دار کی مٹھی گرم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب چاہو ہم کلا م ہوجاؤ۔ دل کے آئینے میں

ہے تصویر یار، جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی۔ یہ تم ہماری طرف متوجہ نہیں ہوتے ۔ ہم تو ہروقت کہتے ہیں۔ رات کے آخر ی گھنٹوں میں۔ ساری دنیا میں نزول فرما لیتے ہیں تمہارے لیے۔ اور پکارنے والا پکارتا ہے۔ ہے کوئی استغفار کرنے والا اس کو میں بخش دوں۔ ہے کوئی مانگنے والا اسے میں عطا کروں۔ تم سوئے رہتے ہو۔ تم ہماری طرف متوجہ نہیں ہو۔ اگر تم ہماری طرف متوجہ ہوجاؤ تو جیسا کہ اقبال نے کہا میر ے لیے یہ دربان ہے پیرا ن کلیسہ کو کلیسہ سے اٹھا دو۔