اللہ انسان کو اس کی محبت کیسے عطا کرتا ہے؟ دل کو چھو لینے والے غضب کے اقوال

اللہ انسان کو اس کی محبت کیسے عطا کرتا ہے؟ دل کو چھو لینے والے غضب کے اقوال

دعا اپنے آپ میں قبولیت کی سب سے بڑی دلیل ہے اور جس کو اللہ پریقین مل جائے اسے زیادہ پرسکون کوئی نہیں ہوسکتا۔ ضمیر کی عدالت میں جاتے رہا کریں۔ وہاں سے سچائی کے اور انصاف کے فیصلے ہوتے ہیں۔ دعائیں تو چاند کو بھی دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیتی ہیں۔ ان کی طاقت کے سامنے تمہاری چھوٹی سی خواہش بہت بے معنی ہے۔

جب تم سجدہ کرتے ہوتو محبت کا حق ادا کرتے ہو۔ اور جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہو تو یقین کے حق ادا کرتے ہو۔ اور محبت تو یقین کیے بغیر کوئی وجود نہیں ۔ جس نماز میں دعا شامل نہ ہو وہ نماز ہمیشہ ادھوری رہتی ہے۔ تو پھر نمازیں ادھوری رکھ کر ، خواہشوں کے مکمل ہونے کی طلب کیسی۔ جب کوئی تمہار ا ساتھ نہیں دیتا تب رب

تمہارا ساتھ دیتاہے۔ اور اس سے بہترین کوئی ساتھی نہیں ۔ عجیب پردے داری ہے۔یہ سب راز داریاں بھی جو سمجھ گئے وہ نکھر گئے نہ سمجھے تو بکھر گئے۔ تو مجھ کوجوڑ دے یار ب ، میں خود کو توڑ بیٹھا ہوں۔ میں اب اللہ کو سناتا ہوں حال دل اپنا۔ میں اب زمین زادوں پر بھروسہ نہیں کرتا۔ تمہیں سوچا پھر تمہارے لیے دعا کی۔

محبت کے لیے ملاقات ضرور ی نہیں ہے۔مشکلوں کا آنا پارٹ آف لائف ہے۔ اور ان میں سے ہنس کر باہر آرٹ آف لائف ہے۔ مخلص ہونا دنیا کا سب سے پرکشش جذبہ ہے۔ حتی ٰ کہ محبت سے بھی زیادہ پرکشش۔ حرف زبان سے رکوع تک ، آنکھوں کے نیل سے سجود تک، میرا عشق تیرے گرد ہے۔فریاد سے کن فائیکون تک۔ بے بسی تو ہی ہے۔

جوانسان کو رب کائنات سے ملاتی ہے۔ ت وبہ کرنے میں دیر نہ کرو کیونکہ م وت اچانک آتی ہے۔ اللہ تمہاری ہتھیلیوں کو تب خالی نہیں ہونے دیتا جب تک وہ اسے کسی اور بہتر چیز سے بڑھ نہیں دیتا۔تم نہیں جانتے کہ اللہ نے تمہارے لیے کیا کچھ سوچ رکھا ہے۔ تم نہیں جانتے کہ اللہ نے تم تک تمہاری چاہت پہنچانے کے لیے کتنے انتظامات

کررکھے ہیں۔ تم نہیں جانتے کہ اس دیری کے بعد تمہاری اس دعا کی قبولیت ہے جو تم مانگا کرتے تھے۔ تم نہیں جانتے جس کی اک تجلی سے کوہ طور راکھ ہوجائے اور اس کا ایک پھونک کیا سے کیا کرسکتا ہے تم نہیں جانتے کہ تمہارے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے اس نے کیسی تدبیریں بنا رکھی ہیں۔ تم نہیں جانتے تمہیں توڑنے میں ہی اس نے

جوڑنے والے سبھی راز چھپا رکھے ہیں۔تم نہیں جانتے کہ اس نے اختتا م تمہار ی رضا کو ہی تمہار ا مقدر لکھ رکھا ہے۔تم نہیں جانتے کہ اللہ نے تمہارے لیے کیا کیا کچھ سوچ رکھا ہے؟ لیکن ہم تو وہ ہیں ہم اس کی محبت جب دیکھتے ہیں جب دنیا کی محبتیں ہمیں رلا تی ہیں۔ ہمیں اذیت دیتی ہیں۔ ہمیں دھ و کہ دیتی ہیں۔ ہمیں تھکا دیتی

ہیں۔ بس ایک تڑپتی ہوئی پکار اور اللہ تمہارا کتنا مختصر شہ رگ تک کا فاصلہ ہے ۔جس دل میں ثواب کا شوق اور ع ذاب کا خ وف پیدا ہوجائے تو جنت خود ہی اس کی منتظر ہوجاتی ہے۔ اللہ آپ کواس وقت بھی ساتھ دیتا ہے۔ جب آپ کو اپنی سانس سے بھی کوئی امید نہیں ہوتی۔