رمضان میں صدقہ ، زکوٰۃ اور پیسہ کتنا دینا چاہیے ؟

رمضان میں صدقہ ، زکوٰۃ اور پیسہ کتنا دینا چاہیے ؟

اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اللہ فرماتا ہے کہ جو چیز سب سے زیادہ پسند ہے۔وہ میرے نام پر دو گے ۔ تو تب جا کر تمہیں اللہ کا قرب حاصل ہوگا۔ محبت کے مقام تک پہنچنے کے لیے اپنے مرغوبات کو قربان کرناپڑتا ہے۔ اور سب سے زیادہ انسان کو جو محبوب ہے وہ پیسہ ہے۔ اس لیے پورے قرآن میں اللہ فرماتا ہے: اللہ کو پاؤ، اللہ کے دین کے

لیے محنت کوشش کرو۔ اپنے مال اپنی جان ، مال کا ذکر پہلے اورجان کا ذکر بعد میں ہے ۔ حالانکہ جان قیمتی ہے مال سے ۔ لیکن مال کو مقدم اس لیے کیا ہے کہ لوگ مال پر اپنی جانیں قربان کردیتےہیں۔ تو جب آدمی مال کو قربان کرتا ہے۔ تو پھر جس جگہ مال لگتا ہے دل بھی وہاں چلا جاتا ہے۔ ایک صحابی آئے یا رسول اللہ ! مجھے م و

ت سے ڈر لگتا ہے۔ آپ نے فرمایا: تیرے اوپر پیسے ہیں۔وہ اللہ کے ہاں خرچ کردے ۔ م و ت کا ڈر نکل جائے گا۔ کہ جہاں آدمی کا مال جاتا ہے اور وہیں اس کا دل بھی چلا جاتا ہے۔ امام زید الدین کی خدمت میں کوئی سائل آتا تھا۔ توکہتے اللہ تیرا شکر ہے تونے میرا سامان میرے گھر پہنچانے کے لیے سواری بھیج دی۔ کہ جو میں اس کو دوں گا وہ

تجھے دینا ہے۔ جو تجھے دوں گا۔ وہ جنت میں میرے لیے جمع ہوجائے گا۔ اور اصل گھر ہمارا جنت ہے ۔ دنیا نہیں ہے۔ تو کہتے تھے یا اللہ ! تیرا شکر ہے۔ کہ تونے میرا گھر کا سامان میرا گھر پہنچانے کے لیے سامان پیدا کردیا۔ اللہ سے سخاوت مانگو ۔ موسی ؑ نے پوچھا یا اللہ!تیرے ناراض ہونے کی نشانی کیا ہے؟ تو اللہ نے فرمایاموسی ؑ جب تو

دیکھے بارش بے موسم ہے۔اور پیسہ بخیل کے پاس ہے۔ اور حکومت نادانوں کے پاس ہے۔ تو سمجھو میں ناراض ہوچکا ہوں۔ جب بارشیں بے موقع ہوں۔ پیسہ بخیلوں کے پاس ہو۔ تو نہ خود خرچ او رنہ کسی اور کے اوپر خرچ کرے ۔ اور حکو مت بے وقوفوں کےپاس ہو تو میں ناراض ہوں۔ پھر کہایااللہ ! جب توراضی ہو تو فرمایا: پھر جب دیکھے

کہ بارشیں موقع پر ہو رہی ہیں۔ پیسہ سخیوں کےپاس ہے حکومت سمجھداروں کے پاس ہے۔ تو سمجھ لے کہ میں لوگوں سے راضی ہوں۔ اور ان سے میں خوش ہوں۔ آج پیسہ بخیلوں کےپاس ہے۔ سخی بہت تھوڑے ہیں۔ جن کے پاس پیسہ ہے ورنہ سب بخیلوں کےپاس ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے بعد سب سے بڑاسخی تمہار ا نبی ہے۔ میں سب سے بڑا سخی ہوں۔ تواللہ کو بخل سے نف رت ہے۔ اور سخاوت اللہ کو پسند ہے۔ اس لیے اللہ نے ادنی درجہ رکھا سخاوت

زکوٰ ۃ۔ اپنے مال میں سے کم ازکم ڈھائی فیصد دے دو۔ یہ جو بارڈر ہیں۔ ایک پاکستانی بارڈر ہے اور ایک انڈین بارڈر ہے۔ درمیان والی جگہ مشترکہ ہوتی ہے۔ وہ پاکستان سے نکل رہا ہے اور انڈیا نہیں آسکتا۔ اور اس بیچ کا جو ٹکڑ اہوتاہے۔ جو آدمی زکوٰ ۃ دیتا ہے۔ وہ بخیلوں سے نکل آتا ہے۔ اور سخیوں میں شامل نہیں ہوتا۔ ابھی وہ راستے میں ہے اگر وہ ڈھائی ہزار سے ایک روپے بھی اوپر کردے ۔ توسخیوں کے بارڈر میں داخل ہوجائے گا۔ پھرآگے سخاوت کی کوئی حد نہیں ۔ لیکن جب تک زکوٰ ۃ دینے والا کوئی سخی داتا نہیں بن گیا۔ بخل سے نکل گیا۔