بریکنگ نیوز: فیصلہ ہو گیا ، جہانگیر ترین کس تاریخ کو تہلکہ خیز اعلان کرنے والے ہیں ؟ اندر کی خبر آگئی

بریکنگ نیوز: فیصلہ ہو گیا ، جہانگیر ترین کس تاریخ کو تہلکہ خیز اعلان کرنے والے ہیں ؟ اندر کی خبر آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) ترین گروپ کیطرف سے21اپریل کو حتمی فیصلہ ہوگا۔ حکومت کی جانب سے ترین کے حامی اراکین اسمبلی کو ڈی سی اور ڈی پی اوز کے ذریعے “رام” کرنے کی کوشش، افطاری کی دعوت ہر کام کرنے کی پیشکش، تفصیل کے مطابق جہانگیر ترین اور عمران خان میں دوری کے بعد جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے کے خلاف

مقدمات قائم کئے جانے اور حکومتی لابی کے بیانات کے بعد ترین کے حامی اراکین اسمبلی نے جہانگیر ترین پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے کہ وہ اپنے لائحہ عمل کو واضح کریں تاکہ وہ اپنے مستقبل کا بروقت فیصلہ کر سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کو اس وقت تک پنجاب کے 25 صوبائی اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے اور یہ

تمام ایم پی ایز جہانگیر ترین کے لئے اسمبلی سے استعفے دینے کو بھی تیار ہیں اور حکومت مخالف بینچز پر بیٹھنے پر بھی بلا جھجھک راضی ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین کی جانب سے 21۔اپریل کو دی جانے والی افطاری کے موقع پر منعقدہ اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہوں، حکومت مخالف

گروپ میں جائیں یا پھر پریشر گروپ بنا کر حکومت کو مشکلات سے دوچار کیا جائے۔ اس سلسلے میں بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کی بھی تجویز پیش کی جائے گی کیونکہ پنجاب حکومت کے لئے اتنی بڑی تعداد میں اپنے حامی اراکین اسمبلی کی حمایت کھو دینے کے بعد بجٹ پاس کروانا ناممکن ہوگا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق ترین گروپ کے بیشتر

اراکین اسمبلی نے ڈی سی اور ڈی پی اوز کے افطار ڈنر میں جانے سے انکار کر دیا ہے اور ضلعی افسران کو اس سلسلے میں ٹال دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ناراض رہنما جہانگیر ترین کی جانب سے اکیس اپریل کو بلایا گیا اپنے ہم خیال اراکین قومی و صوبائی کا اجلاس ملکی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

مصدقہ ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین کو اب تک تیرہ اراکین قومی اور پچیس سے زائد اراکین پنجاب اسمبلی کی حمایت ہو چکی ہے۔ جبکہ اندرون خانہ جہانگیر ترین کے (ن) اور (ق) لیگ سے بھی مسلسل رابطے ہیں اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے آمدہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے بجٹ اجلاس کے موقع پر جہانگیر ترین اپنی پاور شو کریں

گے۔ ہم خیال اراکین قومی و صوبائی اسمبلی بجٹ اجلاس کے دوران کسی اہم دن اجلاس سے غیر حاضر بھی ہو سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دو روز قبل ایک اہم ملکی سیاسی شخصیت نے عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش کی لیکن جہانگیر ترین کی طرف سے ’’مذاکرات‘‘ سے پہلے وزیر اعظم کے

پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو ہٹانے کی شرط رکھی گئی جو وزیراعظم کے دفتر نے منظور نہیں کی۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ رحیم یار خان سے چوہدری آصف مجید کے بعد پی ٹی آئی کے ایک اور رکن صوبائی اسمبلی نے بھی جہانگیر ترین کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔