سبحان اللہ : وہ نبی جسکو حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی عمر کے 40 سال دے دیے

سبحان اللہ : وہ نبی جسکو حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی عمر کے 40 سال دے دیے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کی کمر پر ہاتھ پھیرا۔ چنانچہ وہ تمام جانیں نکل پڑیں جو اللہ تعالیٰ آدم کی ذریت میں سے قیامت تک پیدا کریں گے۔ ہر انسان کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں نور کی لاٹ بنا دی۔ پھر انہیں آدم علیہ

السلام کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے پوچھا:یہ کون لوگ ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے بتایا: تمھاری ذریت۔ اچانک ان کی نظر ایک آدمی پر پڑی اور اس کی آنکھوں کے بیچ کی روشنی انہیں بہت پسند آئی۔ انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ فرمایا: داؤد (علیہ السلام) ۔ انہوں نے پوچھا: اے رب، اس کی عمر کتنی مقرر کی ہے؟ فرمایا: 60 سال۔ عرض

کی: اے رب میری عمر میں سے اس کے 40 سال بڑھا دیجیے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: جب آدم علیہ السلام کی عمر 40 سال نکال کر پوری ہو گئی تو ان کے پاس ملک الموت آیا۔ حضرت آدمؑ نے پوچھا: کیا میری عمر کے 40 سال ابھی باقی نہیں ہیں۔ فرشتے نے پوچھا: کیا آپ نے یہ 40 سال اپنے بیٹے داؤد کو نہیں دے دیے تھے۔

حضرت آدم نے انکار کر دیا۔ اسی طرح اس کی ذریت بھی انکار کرتی رہی ہے۔ آدم بھول گئے اور انہوں نے شجرہ کا پھل کھایا۔ اسی طرح ان کی ذریت بھی بھولتی رہی ہے۔ آدم نے غلطی کی اور ان کی ذریت بھی غلطی کرتی آرہی ہے۔