لیلتہ القدر کی بہت ہی خاص دعا

لیلتہ القدر کی بہت ہی خاص دعا - Urdu Tv

ایک بہت ہی بابرکت اور ایک بہت ہی خاص عمل کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضرہوئے ہیں۔ لیلتہ القدر شریف کی ایک بہت خاص دعا وہ دعا جو نبی کریم ﷺنے حضرت اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کو بتائی تھی۔ اور سکھائی تھی۔ انشاءاللہ ! اگر آپ لوگ بھی یہ دعا پڑھ لیں۔ میری تمام بہنیں بھائی یہ دعا پڑھ لیں۔ انشاءاللہ! اس دعا کی برکت کی وجہ سے آ پ کے تما م مسائل اور پریشانیاں ختم ہوجائیں گی۔ کیو نکہ یہ دعا کسی مولوی یا

کسی پیر یا کسی ولی اللہ یاکسی صحابی کی بتائی ہوئی نہیں ہے۔ بلکہ یہ دعا نبی کریم ﷺ نے خود اپنی زوجہ حضرت اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سکھائی تھی۔ حضرت اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تھا کہ یار سول اللہ ﷺ آج لیلتہ القدر ہے۔ مجھے ایسی دعابتائیں جو میں پڑھوں۔ اس پر نبی کریمﷺ نے یہ دعا جو ہے حضرت اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سکھائی تھی۔ اس کے علاوہ لیلتہ القدر شریف کے نوافل بھی ہوتے ہیں۔ جو

بندہ لیلتہ القدر کے دو نوافل عطا کردے ۔ دو نوافل آپ ضروری نہیں کہ ان نوافل کے اندر آپ کثرت کےساتھ “سورت اخلاص ” پڑھیں۔ یا کثرت کے ساتھ “سورت الکوثر” پڑھیں۔ بے شک آپ دو نوافل اپنی مرضی کے ساتھ پڑھ لیں۔ جو آپ کو قرآن پاک کی سورت آتی ہے۔ مختصر سی وہی سورت آپ دونوافل پڑھ لیں۔ سورت اخلاص ہم ہرنماز کے اندر پڑھتے ہیں۔ تو آپ سورت اخلاص دو نوافل کےاندر پڑھ لیں۔ بے شک ایک ایک مرتبہ پڑھ لیں۔ جس طرح ہم عام نوافل پڑھتے ہیں۔ اس لیے دو نوافل کی نیت کرلیں۔ اور خاص نیت جو ہے وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا

کی خاطر کرلیں۔ یا رب العلمین !دو رکعات نماز نوافل کے پڑھ رہاہوں یا پڑھ رہی ہوں۔ اگر آپ دورکعات نوافل پڑھیں ۔ تو دو رکعات نما ز نوافل کا ثواب ہزار مہینوں سے زیادہ ہے ۔ یعنی ہزار مہینوں کی عبادت کی ایک طرف اور دو رکعت نوافل جو پڑھنے صرف اور صرف تین منٹ یا دو منٹ لگتے ہیں۔ اگر انسان بہت ہی آرام کے ساتھ پڑ ھ لے۔زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ لگ جائیں گے۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ لیلتہ القدر کی فضیلت بیان کی ہے۔ کہ ہزار مہینوں کی عبادت ایک طر ف کردی۔ اور یہ پانچ منٹ کی نوافل ایک طر ف کردیے۔ اور پانچ منٹ کے نوافل ان پر بھاری ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا ہے اس کے پیچھے کیا وجہ ہے۔ کہ نبی کریمﷺ صحابہ کی محفل میں بیٹھے تھے۔ ایک صحابی نے کھڑے ہو کر پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ سے بات پوچھنی ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ : پوچھو! تو اس نے عرض کیا کہ حضرت محمد ﷺ سے پوچھا کہ آپ کی امت کی عمریں بہت کم ہیں کوئی ساٹھ

سال ، کوئی پچاس سال، کوئی ستر سال لیکن چند ایک ہیں جو کہ سوسال سے اوپر جاتے ہیں۔ تو صحابہ نے عرض کیا پہلے کی امتوں کی عمریں بہت زیادہ ہوا کرتی تھیں۔ ہزار سال ، دو سو سال، چھ سو سال تو وہ عبادت میں ہم سے آگے گزر جائیں گے ۔ اور قیامت والے دن ان کا صدقہ خیرات زیادہ ہوگا۔ اس پر حضور اکرم ﷺ پر یشان ہوگئے۔ تو فوراً اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیلؑ کو بھیجا کہ میرے نبی کو سلام کہہ دو۔ کہہ دو کہ اللہ کی ذات ار شاد فرمارہی ہے۔ اے میرے محبوب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کی ہزار سال کی عبادت ایک طرف، جو میں نے ایک رات عطا کی ہے۔ آپ کی امت کو لیلتہ القدر کی رات کو عطا کیا ہے۔ یہ رات ایک طرف ہے۔ تو اس پر حضور اکرم ﷺ بہت خوش ہوئے۔ اورصحابہ کو بتا یا اے میرے صحابہ ! پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے

رب نے آپ کو ایک ایسی رات عطاکی ہے۔ رمضان شریف کے اندر جس کا نام لیلتہ القدر کی رات ہے۔ اور اس رات کو آخری عشرہ کے اندر عطا کرو۔ اس رات کی نشانیاں یہ ہیں کہ اس رات دریا اور سمندر کا پانی میٹھا ہوجاتا ہے۔ اور اس رات نہ زیادہ گرمی ہوتی ہے۔ا ور نہ زیادہ سردی ہوتی ہے۔ آج کو جو وظیفہ ہے حضرت اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پڑھا کرتی تھیں۔ نبی پاک ﷺ نے دعا سکھائی تھی۔ وہ دعا یہ ہے “اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی” ۔ اگر آپ یہ دعا پڑھ لیں گے تو آپ کے جتنے بھی صغیرہ کبیرہ گ۔نا ہ ہوں گے وہ سارے کے سارے مع اف ہوجائیں گے ۔ آپ نے یہ دعا ہرنماز اور سحری کے وقت کم ازکم ایک سومرتبہ پڑھنی ہے۔ انشاءاللہ ! یقین سے کہتے ہیں کہ آپ کے کبیر ہ وصغیرہ گن اہ مع اف ہوجائیں گے۔