عید الفطر کا چاند دیکھتے ہی یہ دعا پڑھیں

عید الفطر کا چاند دیکھتے ہی یہ دعا پڑھیں - Urdu Tv

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو یہ دعا فرماتے: یاالٰہی! اس چاند کو ہم پر برکت اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ طلوع کر اور ہم کو اس چیز کی توفیق دے جس سے تو راضی اور خوش ہوتا ہے، اے چاند! میرا اور تیرا پروردگار اللہ ہے۔ تکبیرات: چاند نظرآنے کے وقت سے لے کر امام کے خطبہ عید سے فارغ ہونے تک

تکبیرات کہنا یعنی بآواز بلند تکبیرات اَللّٰہْ اَکبَرْ اَللّٰہْ اَکبَرْ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ ْ اَللّٰہ ْ اَکبَرْ اللّٰہْ اَکبَرْ وَلِلّٰہِ الحَمدْ پڑھناچاہئیے۔ (ابن ابی شیبہ) لیکن عورتیں اس قدر اونچی آواز سے تکبیرات کہیں کہ غیر محرم ان کی آواز نہ سن سکیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب عید الفطر اور عید الاضحی کے لیے جاتے تو بآواز بلند تکبیرات کہتے حتی کہ عید گاہ میں پہنچ جاتے اور وہاں امام کے آنے تک بآواز بلند تکبیرات کہتے رہتے ۔ عید الفطر میں تکبیرات کا آغاز چاند

دیکھنے سے ہوگا اور اختتام عید کے آخر پر یعنی امام کے خطبہ عید سے فارغ ہونے پر ہوگا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاند دیکھنے کے بعد یہ دعا مانگتے تھے :اَللَّهُمَّ أهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالأَمْنِ وَالإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالسَّلَامِ، وَالتَّوْفِيْقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَی رَبُّنَا وَرَبُّکَ اﷲُ. اے اللہ! ہم پر یہ چاند امن، ایمان، سلامتی، اسلام اور اس توفیق کے ساتھ طلوع فرما جو تجھ کو پسند ہو اور جس پر تو راضی

ہو، (اے چاند) ہمارا رب اور تیرا رب اللہ ہے۔ بے شک عید کا دن جشن مسرت ہے۔ یہ خوشیاں منانے کا دن ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خاص طور پر خیال رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے جشن یا کوئی تہوار منانے کا طریقہ کار ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔ عمدہ قسم کے کھانوں سے لطف اندوز ہونے اور نئے اور قیمتی لباس زیب تن کرنے کی تو اجازت ہے مگر شراب و کباب میں مدہوش ہو کر کپڑوں سے باہر ہونے کی

دین اسلام کے اندر قطعی طور پر گنجائش نہیں ہے۔ کتنی جہالت اور بدقسمتی کی بات ہے کہ رمضان المبارک کے کم و بیش ۳۶۰ گھنٹے تو مسلمان اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہ کر تسیبح و تہلیل اور ذکر و نوافل پڑھنے میں گزار دے لیکن عید کا چاند نظر آتے ہی ٹی وی کے سامنے چوکڑی مار کر بیٹھ جانے کے بعد پاکستانی اور انڈین فلمیں اور گانے سننے اور دیکھنے میں مدہوش ہو کر اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کو یکسر بھول جائے۔ کچھ لوگ تو ایسے بھی دیکھنے میں آئے ہیں کہ جو روزہ کی حالت میں بھی فلموں اور ڈراموں میں مگن ہو کر اپنی

عاقبت برباد کر بیٹھتے ہیں۔ جن لوگوں نے پورے رمضان کے اندر تمام روزے رکھے نماز تراویح پڑھ کر قیام الیل بھی کیا ہے اور قرآن پاک بھی باقاعدگی سے پڑھا ہے اﷲ کا ذکر و نوافل پڑھنے میں بھی وقت گزارا صدقہ خیرات بھی کیا شرم و حیا سے کام لیتے ہوئے اپنی آنکھ کان اور زبان کی حفاظت کر کے ایک متقی و پرہیزگار کی حیثیت سے وقت گزار کر اپنے نفس کو بے لگام ہونے سے بھی بچائے رکھا لیکن وہ اختتام رمضان کے ساتھ ہی چاند رات یا عید کے دن تمام حدود و قیود پھلانگ کر خوف خدا سے بے پرواہ ہو کر شراب و کباب جوا فلمیں اور ڈرامے دیکھنے جیسی لعنت میں مبتلا ہو گئے توگویا ان بدبخت لوگوں نے اپنے حلق میں انگلی ڈال کر قے کر لی انہوں نے خود ہی اپنے تمام کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ اپنی کمائی ہوئی دولت خود ہی اپنے ہاتھوں سے برباد کر دی