Breaking News
crossorigin="anonymous">

کیا فوتگی والے گھر میں کھانا کھانا جائز ہے؟ مفتی طارق مسعود نے میت کے گھرانوں میں کھانا کھانے کے حوالے سے کہا کہا؟

میت والے گھروں میں لوگوں کے لیے کھانے کا باقاعدہ انتظام ایک قابل افسوسناک بات ہے۔ فوتگی والے گھر میں کھانے پر بیٹھے لوگ شرمندہ بھی ہوتے ہیں اور کھان بھی پیٹ بھر کے کھالیتے ہیں۔ سب ہی ایسا نہیں کرتے بلکہ کچھ لوگ مل ملا کر بغیر کچھ کھائے پیئے لوٹ جاتے ہیں۔

یہاں تک کہ بریانی کی پلیٹوں میں بوٹیاں ڈلوانے کی آوازیں بھی سنی جاتی ہیں۔ کئی لوگ اس چیز کو برا سمجھتے ہیں لیکن بد قسمتی سے یہ رواج اکثر میت والے گھرانوں میں دیکھا جاتا ہے۔

فوتگی والے گھر میں کھانا کھانا جائز ہے؟

اس حوالے سے معروف مفتی طارق مسعود اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو میں بیان کرتے ہیں۔ طارق مسعود کہتے ہیں کہ میت کا گھر کھانے پینے کا نہیں ہوتا۔ کھانا پینا شریعت میں خوشی کے موقع پر ہوتا ہے۔

مفتی طارق مسعود کا کہنا تھا کہ آج کل میت والے گھروں میں دیگیں بنتی ہیں جس کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک عجیب ماحول بن جاتا ہے کہ دوپر میں چیخم پکار مچی ہوتی ہے اور پھر شام کو کھانا لگ رہا ہوتا ہے۔

مفتی طارق کا کہنا تھا کہ یہ مزاج شریعت کے بالکل خلاف بات ہے۔ مفتی طارق نے اپنے بیان میں کہا کہ پڑوسیوں کو چاہیئے کہ وہ میت والے گھرانے میں شرکت نہ کریں بلکہ اپنے گھر جا کر ہی کھاناکھائیں۔ مفتی طارق مسعود نے اسی حوالے سے ایک حدیث کا ترجمہ بیان کیا کہ جس گھر میں میت ہوئی ہو ، تین دن تک اس کے کھانے پینے کا بندوبست کرو۔ کیونکہ وجہ یہ ہوتی ہے کہ میت والے گھر میں سوگ کا سماء ہوتا ہے اس لیے وہ کھانا نہیں بنا سکتے۔

مفتی طارق نے کہا کہ میت والے گھر کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو چاہیئے کہ وہ ان کے کھانے کا انتظام کریں۔ مزید مفتی طارق مسعود نے میت کے گھرانوں میں پیش آنے والے معاملات اور اس کے حل کے بارے میں کیا کہا دیکھیئے اس ویڈیو میں۔

Check Also

”ماہ محرم الحرام میں روزہ رکھنے کی فضیلت“

محرم الحرام کا مہینہ قابلِ احترام اور عظمت والا مہینہ ہے، اس میں دس محرم …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *