اسلام آباد ہائی کورٹ میں رینجرزکو طلب کر لیا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ میں رینجرزکو طلب کر لیا گیا

اسلام آباد:  وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلع کچہری میں مبینہ طور پر کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی زمین پر قائم چیمبرز گرائے جانے کے خلاف وکلا احتجاج کر رہے ہیں جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں توڑ پھوڑ کے بعد رینجرز کو طلب کر لیا گیا ہے. احتجاج کرنے والے وکلا کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں توڑ

پھوڑ کی گئی ہے توڑ پھوڑ کا واقعہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش آیا وکلا اس وقت چیف جسٹس کی میز پر چڑھ گئے جب وہ خود بھی کمرے میں موجود تھے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکلا کی ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس کی بڑی تعداد وہاں موجود ہے جبکہ رینجرز کو بھی طلب کر لیا گیا ہے اسلام آباد ہائی

کورٹ کی سروس روڈ اور عدالت کے احاطے کو عام افراد کے لیے بند کر دیا گیا ہے جبکہ حفاظت کے پیش نظر اسلام آباد ہائی کورٹ کے قریب ہی واقعے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے دفتر کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب سے وہاں موجود صحافیوں نے وکلا کی جانب سے کوریج کرنے سے روکنے کی شکایت کی ہے وکلا کی جانب سے ضلع

کچہری میں تمام عدالتیں بند کرا دی گئی ہیں جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی تمام عدالتوں میں مقدمات کی کارروائی روک دی گئی. اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں موجود وکلا کا احتجاج کے حوالے سے موقف ہے کہ ایف8 میں آپریشن کیا گیا تو صرف نئے چیمبر ہی نہیں بلکہ 15 سے 20 سال پرانے چیمبر بھی گرائے گئے ہیں ان کا

کہنا ہے کہ ہمارے خلاف رینجرز آ گئے ہیں کیا ہم دہشت گرد ہیں؟جبکہ وہاں پر بعض خواتین وکلا نے اس بات پر احتجاج کیا کہ چند وکلا نے چیف جسٹس سے توڑ پھوڑ کرنے پر معافی کیوں مانگی ہے۔بڑی تعداد میں مشتعل وکلا اسلام آباد ہائی کورٹ میں نعرے بازی کرتے ہوئے داخل ہوئے اور چیف جسٹس بلاک میں موجود کھڑکیوں کے شیشے

توڑ دیے اس موقع پر وکلا کی جانب سے چیف جسٹس کے چیمبر کے باہر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی. جس وقت وکلا چیف جسٹس بلاک میں داخل ہوئے وہاں اسپیشل سیکورٹی پولیس موجود نہیں تھی تاہم احتجاج کے کافی دیر بعد پولیس، انسداد دہشت گردی فورس کی بھاری نفری کے علاوہ رینجرز بھی عدالت پہنچ گئی احتجاج اور اشتعال انگیزی کے باعث چیف جسٹس اطہر من اللہ اپنے چیمبر میں

محصور ہو کر رہ گئے تھے تاہم چیف جسٹس بلاک سے تمام خواتین ملازمین کو باہر نکال دیا گیا.اس کے علاوہ وکلا کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی اور ویڈیو بنانے پر ان سے الجھ پڑے اور موبائل فون چھین لیے احتجاج کے باعث اسلام آباد ہائی کورٹ میں تمام سائلین کا داخلہ بھی بند ہوگیا اور عدالت کے سروس روڈ کو بھی ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا۔وکلا نے اسلام آباد کی ضلع کچہری میں تمام عدالتیں بند کرادیں جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی تمام عدالتوں میں مقدمات کی کارروائی روک دی گئی وکلا سے مذاکرات کے لیے چیف کمشنر اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، حمزہ شفقات، سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کے علاوہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے.۔