’’ کسی کی کوئی بات بُری لگ گئی۔۔‘‘ پاک فوج کو پہلی مرتبہ وضاحت پیش کیوں کرنی پڑی؟ کاشف عباسی نے ناقابلِ یقین انکشاف کر دیا

’’ کسی کی کوئی بات بُری لگ گئی۔۔‘‘ پاک فوج کو پہلی مرتبہ وضاحت پیش کیوں کرنی پڑی؟ کاشف عباسی نے ناقابلِ یقین انکشاف کر دیا

اسلام آباد : ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے گذشتہ روز کہا کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں ،اس کا کسی قسم کی سیاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں،بیک ڈور رابطے نہیں ہورہے،بغیر تحقیق بات کرنا کسی کو بھی سوٹ نہیں کرتا، کوئی ثبوت ہیں تو سامنے لائیں،ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سےیہ بیان

ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان پر سیاست میں مداخلت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔آخر  پاک فوج کے ترجمان کو یہ بیان دینے کی ضرورت پیش کیوں آئی۔اسی پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے معروف صحافی کاشف عباسی کا کہنا ہے کہ ہم کئی سالوں سے صحافت کر رہے ہیں۔عموما آئی ایس پی آر کی

جانب سے سیاسی معاملات پر اتنا کھل کر بیان نہیں آتا لیکن اگر اس بار بیان سامنے آیا ہے تو یقینا کسی کو کوئی بات بری لگی ہو گی،تبھی یہ بات یہاں آ کر پہنچی کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو ٹی وی پر آ کر اس کی تردید کرنا پڑی۔تو مجھے یقین ہے کہ کہیں نہ کہیں کسی نے برا ضرور منایا ہو گا۔کہیں نہ کوئی بات ضرور ہوئی ہے کہ

ان تمام چیزوں کو واضح کرنا ضروری ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ روز نجی ٹی وی کے مطابق ایک بیان میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کورونا سے پوری دنیا متاثر ہوئی، پاکستانی قوم نے کورونا کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور ہیلتھ کیئر ورکرز نے کورونا سے مقابلے میں قوم کی بھرپورمدد کی۔انہوں نے

کہاکہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں، ہمارے کسی قسم کے کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہورہے اور کسی قسم کی سیاست کے ساتھ ہمارا تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بارے میں بغیر تحقیق بات کرنا کسی کو بھی سوٹ نہیں کرتا، اگر اس متعلق کوئی ثبوت ہیں تو سامنے یلائیں ورنہ اس قسم کی قیاس آرائیاں بند ہونی چا ہیے۔