نیا پنڈوراباکس کھل گیا! پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی کے پاس دس کروڑ روپے کی آفر لے کر کونسی خاتون آئی تھی ؟ تہلکہ خیز دعویٰ

نیا پنڈوراباکس کھل گیا! پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی کے پاس دس کروڑ روپے کی آفر لے کر کونسی خاتون آئی تھی ؟ تہلکہ خیز دعویٰ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک  )2018 کے سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خریدو فروخت کی ویڈیو منظر عام پر گئی ہے جس نے ہنگامہ برپا کر رکھاہے تاہم اب اس معاملے پر تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے بھی خاموشی توڑ دی ہے ۔تفصیلات کے مطابق شوکت یوسفزئی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں عمران خان نے متعدد

بار کہا کہ الیکشن کو شفاف بنانے کیلئے سب مل بیٹھ کر ایک فیصلہ کرتے ہیں ، چیختے سب ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے تو کیوں نہ اس کا خاتمہ کیا جائے ، جو نام لیے جارہے ہیں ان سب کو میں جانتا ہوں ، حالانکہ مجھے اور ہمارے ڈپٹی سپیکر کو دس کروڑ روپے کی آفر ہوئی تھی ، اللہ کا شکرہے کہ ہم پیسوں کو آگے جھکے نہیں ، میرے گھر

این جی او سے ایک خاتون آئی اور انہوں نے پیسوں کی پیشکش کی جبکہ وہی خاتون ڈپٹی سپیکر کے پاس بھی گئیں تھیں لیکن ہم نے انکار کر دیا ۔شوکت یوسفزئی کا کہناتھا کہ مجھے پتا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی طرف سے آئی تھیں اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ، وزیراعظم عمران خان اوپن بیلٹ سے سینیٹ انتخاب کی بات سوچ سمجھ کر رہے ہیں ، جس کے پاس جتنی سیٹیں ہوں گی اس کے اتنے سینیٹرز آجائیں گے ، پارلیمنٹ میں ایسے لوگ جانے چاہئیں جن کے پاس دماغ ہو۔ ان کا کہناتھا کہ اس وقت الیکشن میں جس کے پاس چار سیٹں تھیں وہ بھی

دو سیٹیں جیت گیا ، یہ تو سب کو پتا تھا کہ لوگ بکے ہیں ، میڈیا ہم سے پوچھتا تھا کہ کس بنیاد پر آپنے لوگوں کو فارغ کیاہے ، وائٹ کالر کرائم کا ثبوت لانا بہت مشکل ہوتاہے ، عمران خان تک ساری چیزیں پہنچ گئیں تھیں ، جو لوگ سودے کر رہے ہیں وہ ویڈیوز بھی بناتے ہیں ، افسوس ہو رہاہے اپنے دوستوں کو ایسے دیکھتے ہوئے ۔نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کے 20 ایم پی ایز پر 2018 کے سینیٹ الیکشن میں پیسے لے کر ووٹ

بیچنے کا الزام لگا تھا۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے تحقیقات کے بعد 20 ارکان کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔پی ٹی آئی کے ارکان کی خریدو فروخت کی منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ میز پر کس طرح نوٹوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ ویڈیو میں اراکین اسمبلی کو نوٹ گنتے اور بیگ میں ڈالتے دیکھا جاسکتا ہے، یہ خریدو فروخت 20 فروری سے 2 مارچ 2018 کے درمیان ہوئی۔پی ٹی آئی کے ارکان کے ووٹ سوا ارب روپے میں خریدے گئے، کسی رکن کو چار، کسی کو پانچ اور بعض اراکین کو نو کروڑ روپے دے کر ان کا ووٹ خریدا گیا۔