مجھے 3 گھنٹے تک محصور رکھا گیا لیکن میں کھڑا رہا،  واقعہ میں ملوث افراد کیخلاف چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا دھ. ما. کہ خیز اعلان

اسلام آباد : چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے عدالت پر وکلاء کے د. ھ.ا .و .ے  کے بارے میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہائیکورٹ پر ح. م.ل ہ   5 فیصد وکلاء نے کیا،ذمہ داران کو مثال بنایا جائے تو دوبارہ ایسا واقعہ نہیں ہوگا ، مجھ سمیت کوئی قانون سے بالا نہیں، امید ہے بار کونسل واقعہ میں ملوث افراد کیخلاف

کارروائی کریگی،قانون اپنا راستہ خود بنائیگا،7 سال میں کسی غیر قانونی کام کو سپورٹ کیا نہ کروں گا۔وکلا کے اسلام ہائیکورٹ پر د.ھ. و. ا  بولنے کے تیسرے روز بدھ کو عدالتیں کھلیں تو ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جب وکلاء کا گروہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں داخل ہوا تو میں باہر آیاد میں دروازے

پر پہنچا تو وکلاء دروازہ توڑ چکے تھے۔انہوں نے کہا کہ پولیس میری حفاظت کیلئے آئی تو پولیس کو میں نے خود پیچھے ہٹنے کا کہا، مجھے 3 گھنٹے تک محصور رکھا گیا لیکن میں کھڑا رہا۔انہوں نے کہا کہ میں ایکشن لے سکتا تھا لیکن میں نے اکیلے محصور رہنے کا فیصلہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملے پر ایکشن لیتا تو کہتے اپنے ہی ایڈووکیٹس کیخلاف کارروائی کروادی، اس معاملے میں اتھارٹی بار کونسل ہے انہیں اس معاملے کو دیکھنا چاہیے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ پر   ح. م. ل ہ   کر کے سب کو راستہ دکھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ 5 فیصد وکلاء نے یہ سب کچھ کیا، 95 فیصد تو پروفیشنل وکیل ہیں۔انہوں نے کہا کہ 6 ہزار کی بار میں سے صرف 100 وکلاء نے   ح. م. ل ہ   کیا لیکن بد نامی سب کی ہوئی، جو کچھ 2 روز قبل ہوا اس پر انتہائی ش. ر. من. د. ہ   ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کہ اسلام آباد ہائیکورٹ پر   ح. م. ل ہ   وکلاء تحریک کے 90  ش. ہد. اء   کی تذلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت کوئی قانون سے بالا نہیں، عدالت بار کونسل سے امید کرتی ہے کہ وہ واقعہ میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کریگی، قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ  ح. م. ل ہ   میری ذات پر نہیں عدلیہ اور ادارے پر ح. م. ل ہ  ہے۔