’’ میں ترجمان پاک فوج سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں ، وہ اتنا بتا دیں کہ ۔۔۔‘‘ شاہد خاقان عباسی نے ڈی جی ISPRسے بڑی بات پوچھ لی، نئی بحث چھیڑ دی

’’ میں ترجمان پاک فوج سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں ، وہ اتنا بتا دیں کہ ۔۔۔‘‘ شاہد خاقان عباسی نے ڈی جی ISPRسے بڑی بات پوچھ لی، نئی بحث چھیڑ دی

اسلام آباد، کراچی: سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی بات پر یقین کرنا چاہتا ہوں، میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی بات پر مکمل اور دل سے یقین کرنا چاہتا ہوں، میری خواہش ہے کہ یہ بات درست ہو۔ لیکن ڈی جی آئی ایس

پی آر صرف یہ بتا دیں کہ کس تاریخ سے کس دن تک انہوں نے سیاست میں مداخلت چھوڑ دی، کیونکہ مداخلت تو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس دن انہوں نے یہ بیان دیا اس دن سے شروع کریں یا پھر کس دن سے شروع کریں ، ڈی جی آئی ایس پی آر بس اتنا بتا دیں کہ اس دن سے فوج کی سیاست میں کوئی

مداخلت نہیں ہے، کوئی اثر نہیں ہے اور کوئی حصہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بس وہ ایک دن بتا دیں۔ 2008 تک تو مشرف صاحب بر سر اقتدار تھے ، وہ دن تو ہو گیا ، اس کے بعد سے کسی دن یا تاریخ کا بتا دیں۔اصل بات یہ ہے کہ جو ادارے فوج اور انٹیلی جنس میں بنائے گئے ہیں جو سیاست پر نظر رکھتے ہیں،کیا ان کو ختم کر دیا گیا ہے ؟

ہم بھی چاہتے ہیں کہ جمہوریت ہو ، اس سے فوج بھی مضبوط ہو گی اور ملک بھی مضبوط ہو گا۔ اس حوالے سے باقاعدہ تنظیمیں اور سیٹ اپس ہیں، کیا وہ ختم ہو گئے ہیں؟ اگر ختم ہو گئے ہیں تو بہت اچھی بات ہے۔ میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی بات پر یقین کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھے عملًا اس کا ثبوت بھی چاہئے۔اگر وہ ثبوت مانگ رہے ہیں تو میں بھی ثبوت مانگ رہا ہوں۔ میڈیا کو غیر آزاد کس نے کیا ہے ؟ اپوزیشن نے کیا ہے ؟ حکومت نے کیا ہے ؟ کس نے کیا ہے ؟ صحافی اٹھائے جاتے ہیں یہ کون کرتا ہے ؟ الیکشن میں دھاندلی کون کرتا ہے ؟ بلوچستان کی حکومت غائب ہو جاتی ہے یہ کس نے کیا ہے ؟ میں وزیراعظم تھا اس وقت ، یہ میرے سوالات ہیں۔