سینیٹ انتخابات کے بعد ’تحریک عدم اعتماد‘ پر بھی پیسہ لگنے کو تیار، آنے والے دِنوں میں اسمبلی میں کیا ہونے والا ہے؟ وزیر اعظم کو بڑے خطرے سے آگاہ کر دیا گیا

سینیٹ انتخابات کے بعد ’تحریک عدم اعتماد‘ پر بھی پیسہ لگنے کو تیار، آنے والے دِنوں میں اسمبلی میں کیا ہونے والا ہے؟ وزیر اعظم کو بڑے خطرے سے آگاہ کر دیا گیا

اسلام آباد : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار طاہر ملک نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو بالکل اس بات کا خطرہ ہے کہ سینیٹ کا الیکشن خرید لیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس ایک خبر یہ بھی ہے کہ حکومت کو تحریک عدم اعتماد کا بھی خطرہ ہے کہ وہاں بھی مال لگے گا۔ انہوں نے

کہا کہ اگر عمران خان کا ایک فیصد بھی سچ اور جمہوریت کے ساتھ کمٹمنٹ ہو تو ان کو چاہئیے کہ وہ ایف آئی اے اور الیکشن کمیشن کے پاس یہ معاملہ لے کر جائیں ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس یہ ویڈیوز لے کر جانی چاہئیں۔ میں کسی ایک پارٹی کی بات نہیں کر رہا ، میں سب پارٹیوں کی بات کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان کو کل اس ویڈیو کا علم ہوا اور جیسے ہی ان کو علم ہوا کہ

خیبرپختونخواہ کا وزیر بھی ہے تو انہوں نے اس کو نکال دیا۔خیال رہے کہ سینیٹ انتخابات کے لیے ملک بھر میں جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔پی ڈی ایم نے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے سینیٹ میں مشترکہ اُمیدوار لانے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بھی سینیٹ انتخابات کے لیے اُمیدواروں کی

فہرست کو حتمی شکل دے دی ہے۔ دوسری جانب گذشتہ روز گذشتہ سینیٹ انتخابات میں ارکان اسمبلی کو خریدنے سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ ئے اوراراکین اسمبلی کی خرید و فروخت کی ایک مبینہ ویڈیو بھی سامنے آئی۔اس ویڈیو سے متعلق دعویٰ کیا گیا کہ 2018ء کے سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی ارکان کو نوٹوں کے انبار لگا کر خریدا گیا۔ویڈیو میں اراکین اسمبلی کو نوٹ گنتے اور بیگ میں ڈالتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ خرید و

فروخت 20 فروری 2018ء سے 02 مارچ 2018ء کے دوران کی گئی۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیتے ہوئے خیبرپختونخواہ کے وزیر قانون سلطان محمد خان کو مستعفی ہونے کی ہدایت کی تھی۔ گذشتہ روز منظر عام پر آنے والی ویڈیو کو سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بھی کافی بحث کی جا رہی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات پر پاکستان تحریک انصاف نے بیس اراکین اسمبلی کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔