محمد بِن سلمان کا کردار ختم! جو بائیڈن کا ایک اور بڑا فیصلہ، اب امریکہ کس سعودی شخصیت سے معاملات طے کرے گا؟ فیصلہ ہوگیا

محمد بِن سلمان کا کردار ختم! جو بائیڈن کا ایک اور بڑا فیصلہ، اب امریکہ کس سعودی شخصیت سے معاملات طے کرے گا؟ فیصلہ ہوگیا

واشنگٹن (نیوز ڈیسک ) امریکہ نے سعودی عرب سے متعلق پالیسی میں بڑی تبدیلی کی ہے۔بائیڈن انتظامیہ نے باہمی تعلقات میں سعودی ولی عہد محمد سلمان کا کردار کم کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔امریکی صدر سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے

ساتھ سفارتکاری کریں گے۔امریکا ’ ہم منصب سے ہم منصب ‘ کے رابطے کی جانب لوٹ رہا ہے۔پریس بریفنگ کے دوران ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ سعودی عرب سے متعلق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے محمد سلمان سے رابطے رکھے جو بالکل غیر مناسب ہیں۔

تاہم بائیڈن انتظامیہ کے رابطے سعودی عرب کے بادشاہ محمد بن سلمان کے ساتھ ہوں گے اور آئندہ معاملات بھی انہی کے ساتھ زیر بحث ہوں گے۔گذشتہ چار سال میں سعودی عرب کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں پر بھی غور ہو گا،معاہدوں کی شرائط کا جائزہ لیا جائے اور پھر اس کی اپروول دی جائے گی۔ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ لہام

فخرو کہتے ہیں، ”اب وہ پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ ان کے بنیادی مفادات کو تحفظ فراہم نہیں کرے گی۔ بائیڈن ایران کے خلاف پابندیاں نرم کر دیں گے، دوبارہ معاہدے میں شامل ہو جائیں گے اور ہتھیاروں کی فروخت کو محدود بنا دیں گے‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے وائٹ ہاؤس نے کانگریس میں وہ قراردادیں بھی نہیں جانے دی

تھیں، جو یمنی جنگ میں متنازعہ سعودی کردار اور سعودی صحافی جمال خاشقجی کے ترکی میں قتل سے متعلق تھیں۔ محمد بن سلمان واشنگٹن میں خود کو اب تنہا محسوس کریں گے۔الیکشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد عرب لیڈروں نے جو بائیڈن کو مبارکباد دینے میں تاخیر نہ کی لیکن چھ خلیجی ممالک میں سعودی عرب وہ واحد ملک ہے، جس نے ابھی تک کوئی ردعمل نہیں دیا۔