اگر وہ مجھ سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے تو پھر ۔۔۔ ضیاالحق نے کس سعودی شہزادے سے زبرداستی ملاقات کی تھی اور کیوں ؟ 41 سال پہلے پیش آیا ایسا واقعہ جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں

اگر وہ مجھ سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے تو پھر ۔۔۔ ضیاالحق نے کس سعودی شہزادے سے زبرداستی ملاقات کی تھی اور کیوں ؟ 41 سال پہلے پیش آیا ایسا واقعہ جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں

اسلام آباد(ویب ڈیسک)یہ 1980 کی دہائی کا واقعہ ہے جب ایک سعودی شہزادے نے پاکستان کے سابق صدر جنرل ضیا الحق سے ملاقات کرنے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا مگر اس کے باوجود جنرل ضیا زبردستی شہزادے کے پاس ملاقات کے لیے پہنچ گئے ۔ یہ ملاقات سعودی عرب نہیں بلکہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں ہوئی تھی جہاں

سعودی شہزادہ معدومی کے خطرے سے دوچار پرندے تلور کے شکار کے لیے موجود تھا۔ بی بی سی اردو میں محمد کاظم کی شائع رپورٹ کے مطابق اس زبردستی ہونے والی ملاقات کا تذکرہ بلوچستان کے سابق چیف سیکریٹری میر احمد بخش لہڑی نےاپنی کتاب”آن دی مڈ ٹریک” میں کیا ہے۔احمد بخش لہڑی ضلع چاغی کے دو اضلاع میں تقسیم

سے قبل ناصرف ان میں اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ (اسسٹنٹ کمشنر) تعینات رہے بلکہ طویل عرصے تک وہ اس ضلع کے پولٹیکل ایجنٹ بھی رہے۔ 196 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ضلع چاغی کی ایک قبائلی شخصیت سردار علی جان سنجرانی کی سابق صدر کے بارے میں رائے کا تذکرہ ہے لیکن اس سے قبل مصنف نے اس دلچسپ واقعے کا ذکر کیا ہے۔ ضلع چاغی میں دالبندین کا علاقہ اب بھی شکار کے لیے سعودی عرب سے تعلق رکھنے شہزادوں کے لیے مختص ہے۔سابق چیف سیکریٹری نے اپنے کتاب میں جس واقعے کا ذکر کیا ہے اس وقت یہ علاقہ

سعودی عرب کے سابق سیکنڈ کرائون پرنس اور وزیر دفاع شہزادہ سلطان بن عبد العزیز کو الاٹ کیا گیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ سنہ 1982-83 کی سردیوں میں جب ہجرت کرنے والا پرندہ تلور چاغی پہنچا تو سلطان بن عبد العزیز بھی شکار کے لیے دالبندین پہنچ گئے۔وہ چند گاڑیوں اور لوگوں کے ساتھ نہیں آئے تھے بلکہ ان کے ہمراہ دو سے تین سو گاڑیوں کا ایک قافلہ تھا۔ یہ گاڑیاں اور خیمے سی ون 30 طیاروں کے ذریعے سعودی عرب سے پاکستان پہنچائے گئے تھے ۔ کتاب کے مصنف کے بقول شکار کے حوالے سے غیرملکیوں کو شکار گاہیں الاٹ کرنے پر مقامی آبادی کی رائے منقسم تھی۔ بعض لوگوں کی یہ رائے تھی کہ ان کو شکارکے لیے علاقے الاٹ نہیں کرنے چاہیں کیونکہ اس سے ان کی زرعی اراضی اور فصلوں کو نقصان پہنچتا تھا جبکہ ماحولیات کے تحفظ کے حامی تلور کے شکار کے

مخالف گروہوں اور افراد کا کہنا تھا کہ اس سے یہ پرندہ مکمل معدومی کے خطرے سے دوچار ہو جائے گا ۔ تاہم اس وقت بھی بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ ایک ہجرت کرنے والا پرندہ ہے اگر اسے یہاں شکار نہیں کیا گیا تو دوسرے علاقوں میں اسے شکار کیا جائے گا، اس لیے ہمیں اپنے خلیجی دوستوں کو زیرِ احسان رکھنے کے لیے ان کو شکار کی اجازت دینی چاہیے ۔ ان لوگوں کی یہ بھی رائے تھی کہ غیر ملکیوں کی آمد سے یہاں معاشی سرگرمیوں کا آغاز ہوگا اور لوگوں کو روزگار ملے گا ۔ مصنف کے مطابق اس منقسم رائے کے تناظر میں چند مخالفت کرنے والے مقامی لوگوں نے ایک سعودی شہزادے کی شکار پارٹی پر حملہ کر دیا۔حکومت پاکستان سعودی حکام کو اس واقعے کے بعد شہزادہ سلطان بن عبد العزیز کے ذریعے مطمئن کرنا چاہتی تھی، جن کی حیثیت حکمران خاندان میں تیسرے نمبر پر تھی۔ مصنف کے مطابق سابق صدر جنرل ضیا الحق اس مقصد کے لیے شہزادہ سلطان سے ملنا چاہتے تھے لیکن وہ تذبذب کا شکار تھے۔ ایوان صدر سے متعدد فون کالز آنے کے باوجود وہ بات نہیں کر رہے تھے۔ایک رات دیر سے

سابق صدر کے ملٹری سیکریٹری کا انھیں فون آیا اور بتایا کہ وہ ذاتی طور پر شہزادہ سلطان بن عبد العزیز سے ملیں اور ان سے ضیا الحق کی ملاقات کے لیے وقت لیں۔ سابق چیف سیکریٹری کے مطابق صدر کے ملٹری سیکریٹری کے کہنے پر جب اگلے روز وہ شام کو شہزادہ سلطان بن عبد العزیز سے پاس گئے اور ان سے وقت دینے کے لیے کہا تو انھوں نے شائستہ انداز میں ان کی درخواست کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ تعطیلات پر ہیں اور صدر ضیا سے ان کی ملاقات بڑے پیمانے پر پبلیسٹی کا باعث بنے گی۔تاہم شہزادے نے کہا کہ ان کے یہاں قیام کے خاتمے کے بعد صدر ان سے کوئٹہ یا کراچی میں ملاقات کر سکتے ہیں۔ احمد بخش لہڑی لکھتے ہیں کہ میں نے اس بات سے ایوان صدر کو آگاہ کیا لیکن اس کے بعد مجھے کہا گیا کہ صدر کے دورے کے لیے دو ہیلی پیڈز کی تعمیر کے لیے جگہ کی نشاندہی کی جائے، جس پر میں نے دالبندین ایئر سٹرپ کے قریب ہیلی پیڈ بنانے کے لیے جگہ کا انتخاب کیا۔ سعودی

اہلکاروں نے مجھ سے رابطہ کیا اور یہ کہا کہ صدر کو کہیں کہ وہ دورہ منسوخ کریں کیونکہ شہزادہ سلطان بن عبد العزیز ان کا استقبال نہیں کریں گے جس سے سفارتی اور پروٹوکول کی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔سعودی اہلکاروں کے کہنے پر میں نے ایوان صدر میں حکام سے رابطہ کیا اور انھیں اس صورتحال سے آگاہ کیا لیکن اگلے دن مجھے معلوم ہوا کہ پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ کو یہ ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ وہ شہزادے کے کیمپ کے قریب صدر کے دورے کی مناسبت سے دو ہیلی پیڈ تعمیر کر دیں۔ سابق چیف سیکریٹری کے مطابق جلد ہی جنرل ضیا الحق ایک وفد کے ہمراہ دالبندین پہنچ گئے تو شہزادے کی بجائے نچلے درجے کے سعودی اہلکاروں نے ان کا استقبال کیا۔ جنرل ضیا الحق وہاں پہنچتے ہی شہزادے کے اس خیمے میں گئے جو کہ کھانے پینے اور لوگوں سے

ملاقات کے لیے لگایا گیا تھا۔جنرل ضیا پہلے اکیلے خیمے کے اندر داخل ہوئے جہاں سعودی شہزادے کے عملے کے لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ سعودی شہزادے نے صدر کو کہا کہ وہ اپنے ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی اندر آنے کے لیے کہیں جس پر صدر کے ساتھ آنے والے اہلکاروں کو بھی وہاں بلا لیا گیا۔ اس طرح انھوں نے کامیابی سے صدر کے ساتھ اکیلے ملاقات سے گریز کیا۔اس ملاقات میں دونوں کے درمیان بات چیت کا محور علاقے میں شکار کی صلاحیت بنا رہا۔ مصنف کا کہنا ہے کہ جنرل ضیا کو تلور یا اس کے شکار کے متعلق زیادہ معلومات نہیں تھیں۔اس موقع پرایک علاقہ جس کا نام کنڈ تھا صدر ضیا اسے ڈونکی کہتے رہے۔ جب شہزادے کے پرسنل سیکریٹری نے کہا کہ اس کا نام ڈونکی نہیں بلکہ کنڈ ہے تو صدر نے کہا کہ ہاں ہاں ڈونکی کنڈ کے قریب ہی ہے۔ اس موقع پر جنرل ضیا الحق نے شہزدے کو تحائف پیش کیے تو جواب میں شہزادے نے بھی صدر کوگفٹس کا ایک پیکٹ تھما دیا جس میں 27

سٹیزن گھڑیوں کے علاوہ ایک راڈو گھڑی بھی تھی۔ مصنف کے مطابق اس وقت کے گورنر بلوچستان جنرل رحیم الدین خان نے بھی شہزادہ سلطان بن عبد العزیز السعود سے دو مرتبہ ملاقات کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے تاہم جنرل رحیم الدین اس فہرست میں اپنا نام شامل کرانے میں کامیاب ہوئے جن کو شہزادے نے 20 ہزار ریال جیب خرچ کے ساتھ عمرے کے لیے مہمان کے طور پر دعوت دی تھی۔ سابق چیف سیکریٹری لکھتے ہیں کہ یہ بات دلچسپ ہے کہ وفد میں شامل وہ لوگ جن کے ناموں کے ساتھ ملک کا لاحقہ تھا سعودی عرب سے واپسی پر چھپ گئے تھے۔ بعد میں اس کی یہ وجہ معلوم ہوئی کہ ملک کے لاحقے کی وجہ سے سعودی حکام نے ان کو زیادہ پروٹوکول دینے کے علاوہ وفد کے دیگر اراکین کے مقابلے میں ان کو 40 ہزار ریال دیے اوریہ لوگ جنرل رحیم الدین کے غضب سے بچنے سے چھپ گئے تھے۔اب اس کو حسن اتفاق کہیے کہ سعودی عرب میں بادشاہ کا سرکاری ٹائٹل ملک ہوتا ہے۔