وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد عمران خان پہلی بار کس ملک کا دورہ کرینگے ؟ کھلاڑیوں کیلئے شاندار خبرآگئی

وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد عمران خان پہلی بار کس ملک کا دورہ کرینگے ؟ کھلاڑیوں کیلئے شاندار خبرآگئی - Pakistan News Network

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) دفتر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان کے 2 روزہ دورہ سری لنکا کا اعلان کردیا جو سری لنکن پارلیمنٹ میں طے شدہ تقریر کی منسوخی پر تنازع کا شکار ہوگیا ہے۔ دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ عمران خان سری لنکن وزیراعظم مہیندا راجاپاکسا کی دعوت پر 23 سے 24 فروری تک سری لنکا کا دورہ کریں

گے، ان کے اس دورے میں کچھ وفاقی وزرا اور سینئر حکام ہمراہ ہوں گے۔واضح رہے کہ وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد عمران خان کا یہ پہلا دورہ سری لنکا ہوگاوزیراعظم کے پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ عمران خان اپنے دورے میں سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجاپاکسا اور وزیراعظم مہیندا راجاپاکسا سے ملاقات کریں

گے۔دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ تجارت اور سرمایہ کاری، صحت اور تعلیم، زراعت اور سائنس و ٹیکنالوجی، دفاع اور سیکیورٹی، ثقافت اور سیاحت کے معاملات پر دوطرفہ تبادلہ خیال ہوگا جبکہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔بیان کے مطابق ’دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی رابطوں کو مزید

بڑھانے کے لیے سری لنکا- پاکستان دوستی ایسوسی ایشن کا اعلان کیا جائے گا‘۔اس کے علاوہ عمران خان ایک مشترکہ تجارت اور سرمایہ کاری کانفرنس میں بھی شریک ہوں گے، مزید یہ کہ دورے کے دوران دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے متعدد مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے جائیں گے۔تاہم بیان میں سری لنکن پارلیمنٹ سے تقریر کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔سری لنکن حکومت نے مذکورہ ایونٹ کو منسوخ کرتے ہوئے باضابطہ طور پر کہا تھا کہ کووڈ 19 کی وبا کی وجا سے ایسا کیا گیا۔تاہم سفارتی ذرائع اور سری لنکن میڈیا کا کہنا تھا کہ یہ ان تحفظات پر کیا گیا کہ عمران خان مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق بول سکتے ہیں جو نئی دہلی کے ساتھ کولومبو کے پہلے سے

کشیدہ تعلقات کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ایک اور قیاس آرائی یہ ہے کہ سری لنکن حکومت کو یہ فکر ہے کہ عمران خان اپنی تقریر میں سری لنکن مسلمانوں کی حالت زار کا حوالہ دے سکتے ہیں جو بدھ مت کے اکثریتی ملک میں بدسکولیوں اور امتیاری رویوں کا سامنا کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا تھا کہ ’کووڈ 19 سے متعلق صحت اور حفاظتی پروٹوکولز‘ کے مطابق دورے کی چیزوں کو طے کیا جائے گا۔