حکومت مخالف لانگ مارچ :اخراجات پر پی ڈی ایم جماعتیں تقسیم، چھوٹی جماعتیں ڈٹ گئیں

اسلام آباد (ویب  ڈیسک) حکومت مخالف لانگ مارچ کے حوالے سے ہونے والے اخراجات کے معاملے پر پی ڈی ایم جماعتیں تاحال تقسیم کا شکار ہیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پر مشتمل اپوزیشن جموعتوں کی طرف سے حکومت کے خلاف اعلان کردہ لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں تقسیم واضح ہوچکی

ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم کی بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ لانگ مارچ کے دوران ہونے والے اخراجات تمام جماعتیں مل کر اٹھائیں ، جب کہ چھوٹی جماعتوں کا موقف ہے کہ لانگ مارچ کے تمام تر اخراجات بڑی جماعتیں ہی اٹھائیں ، اس حوالے سے پی ڈی ایم کی اسٹیرنگ کمیٹی کے متعدد اجلاس بھی منعقد

ہوچکے ہیں تاہم اپوزیشن جماعتوں میں تاحال اخراجات کے حوالے سے اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کی تیاریوں کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا پی ڈی ایم کی انتظامی کمیٹی کا اجلاس بھی بد انتظامی کا شکار ہوگیا ، کنوینر کمیٹی احسن اقبال تمام جماعتوں کو بروقت اجلاس میں شرکت کی دعوت دینے

میں ناکام رہے ، اجلاس میں جے یو آئی کا انتظامی کمیٹی کے اجلاس میں بروقت دعوت نہ ملنے پر اعتراض کیا ، جب کہ دیگر ارکان کی عدم موجودگی کے باعث اجلاس کو مختصر کرنا پڑگیا جب کہ ارکان کی تعداد مکمل نہ ہونے پر میڈیا کو بریفنگ بھی نہیں دی گئی۔ خیال رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے حکومت مخالف تحریک کے

سلسلے میں 26 مارچ کو لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے ، اپوزیشن جماعتوں نے اس لانگ مارچ کو مہنگائی مارچ کا نام دیا ہے ، میڈیا ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد کا اجلاس پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہوا ، جس میں مسلم لیگ ن کی طرف سے نائب صدر مریم نواز چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اے این پی سے امیر حیدر ہوتی کے علاوہ آفتاب شیرپاؤ ، محمود خان اچکزئی اور دیگر رہنماوں نے بھی شرکت کی ، بتایا گیا ہے کہ اجلاس اپوزیشن اتحاد نے فیصلہ کیا گیا حکومت کے خلاف ہونے والے لانگ مارچ کو مہنگائی مارچ کا نام دیا جائے گا۔