گیم ہاتھ سے نکلنے لگی ۔۔۔ !!! وفاقی حکومت کو سینیٹ الیکشن سے متعلق کیا بڑے چیلنجزدرپیش ہیں ؟ سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے بڑے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

لاہور(ویب  ڈیسک) سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ حکومت کو سینیٹ الیکشن سے متعلق بڑے چیلنجزدرپیش ہیں، عمران خان کو چاہیے پارلیمانی پارٹی کے ساتھ ملکر ٹھوس مشاورت کریں، کیونکہ اپوزیشن پنجاب، سندھ ، بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں ایم این ایزکے ووٹوں کیلئے حکمت عملی بنا چکی ہے۔انہوں نے

نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ میں اوپن بیلٹ سے متعلق سوموار کے روز صدارتی ریفرنس پر رائے دی جائے گی، اوپن کورٹ میں رائے سنائی جائے گی،حمزہ شہبازکی ضمانت ہوئی وہ رہا ہوگئے ہیں۔حکومت کی طرف سے آج خاموشی نظر آئی ہے، ایسا کافی عرصے بعد ہوا ہے، ورنہ پہلے ردعمل دینے کیلئے پریس

کانفرنس کی جاتی تھی ،آج پارلیمانی پارٹی کو بیٹھنا چاہیے تھا اور سینیٹ الیکشن سے متعلق حکمت عملی بنانی چاہیے تھی۔اپوزیشن کی پنجاب، سندھ اور باقی جگہوں پر واضح حکمت عملی ہے۔ لیکن حکومت کی ارکان قومی اسمبلی کے ووٹوں سے متعلق کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے۔دوسری جانب مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری

شجاعت کا کہنا ہے کہ پرویزالہٰی کی کاوشوں سے سینیٹ امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوئے۔ جو مثال پنجاب نے پیش کی گئی دیگر صوبوں کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے۔ پرویزالٰہی نے آصف زرداری اور ن لیگ کے سرکردہ رہنماؤں کو بھی اعتماد میں لیا۔ پرویز الٰہی کے رابطوں کی وجہ سے پنجاب میں تمام امیدوار بلامقابلہ سینیٹرز منتخب ہوئے۔

قومی مسائل پربھی ایسے ہی یکجہتی کو پروان چڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بات چیت کے ذریعے ہی سینیٹ کا معاملہ حل کروایا تھا۔ تمام قومی ایشوز پر ایسے ہی افہام و تفہیم کے جذبہ کی ضرورت ہے۔ واضح رہے  پنجاب میں سینیٹ انتخابات میں تمام 11 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے ہیں، کامیاب امیدواروں میں 6

تحریک انصاف اور 5 مسلم لیگ ن کے کامیاب امیدوار شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن پنجاب نے کہا کہ پنجاب کی تمام خالی نشستوں پر حصہ لینے والے امیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوگئے ہیں۔ان میں تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کے ٹیکنوکریٹس اورجنرل نشستوں پر تمام جماعتوں کے امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔