نہیں چاہتا کہ کوئی اور جج بھی ۔۔۔!!!جسٹس فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس پر سماعت کب تک اور کیوں ملتوی کر دی ؟ جانئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک)  سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظر ثانی کی درخواستوں پر سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔دورانِ سماعت جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ان کے کیس کے دوران کوئی اور جج بھی ریٹائر ہوجائے۔جسٹس قاضی فائز  عیسیٰ کی نظر ثانی کی درخواستوں پر سماعت

کے دوران ان کے وکیل منیر اے ملک طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے  عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے استفسار کیا کہ کیا وہ خود دلائل دیں گے؟ جس پر قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وہ سنہ 2019 سے مشکلات میں مبتلا ہیں،نہیں چاہتا کہ کیس مکمل ہونے سے پہلے کوئی اور ساتھی ریٹائر

ہوجائےاس لیے خود ہی دلائل دیں گے۔اپنی نظر ثانی کی درخواستوں پر دلائل دیتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ان پر ملک کے سربراہ نے الزام لگایا، اس کیس میں ان کی ذات غیر اہم ہے، یہ جج، سپریم جوڈیشل کونسل اور حکومت تینوں کے کنڈکٹ کا معاملہ ہے۔ اٹارنی جنرل نے آج عدالت آنا بھی گوارا نہیں کیا۔اس بات پر جسٹس

عمر عطا بندیال  نے کہا کہ اس کیس میں دوسرے فریق کو تاحال نوٹس جاری نہیں ہوا، ہم حکومت کو نوٹس کردیتے ہیں ۔  اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ نوٹس ہو یا نہ ہو انہیں آنا چاہیے تھا۔اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ ذاتی حیثیت میں سماعت دیکھنے کیلئے آئے ہیں، اٹارنی جنرل کا کورونا ٹیسٹ

مثبت آیا ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکے جبکہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم 12 مارچ  تک ملک سے باہر ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انہوں نے اپنے کیس کی سماعت سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔ انہوں نے بینچ سے استدعا کی کہ سماعت کل تک کیلئے ملتوی کی جائے۔ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست منظور کرلی۔