شیخ رشید سیاست سے ریٹائر۔۔آخر کار خبر آ ہی گئی جس کا اپوزیشن کو عرصے سے انتظار تھا

شیخ رشید سیاست سے ریٹائر۔۔آخر کار خبر آ ہی گئیجس کا اپوزیشن کو عرصے سے انتظار تھا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ راولپنڈی میں نالہ لئی کا کام مکمل ہوجائے تو سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لوں گا ، ہمیں نئے پڑھے لکھے نوجوانوں کو سیاست میں آنے کا موقع دینا چاہیے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے کہاکہ نالہ لئی کا کام ہو جائے تو ریٹائرڈ ہو جائوں گا سیاست بہت

ہوگئی میری پندرہویں وزارت ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اب ہمیں نئے سیاست میں آنیوالے پڑھے لکھے نوجوانوں کو موقع دینا چاہیے ۔الیکشن قریب ہوتا ہے تو لوگوں کے مسائل زندہ ہوجاتے ہیں، آج جمہوریت کا دن ہے، اب ہمیں الیکشن اصلاحات کی طرف جانا چاہیے تاکہ جمہوریت مضبوط ہو۔اپوزیشن کے حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ

ان کے چہروں پر سیاسی موت نظرآرہی ہے، یہ بھی ہوسکتاہے کہ پیپلزپارٹی والے پی ٹی آئی کوووٹ دے دیں، پنجاب میں آسانی سے الیکشن پرٹوکرہ رکھ دیا، عمران خان کا امیدوار شیخ حفیظ جیتے گا۔شیخ رشید نے کہاکہ یہ کبھی نہیں ہوسکتاکہ یہ الیکشن میں متحدہوجائیں، یہ ان کا نام نہاد کا اتحاد ہے جو صرف تھوڑے عرصے کا ہے، یہ

لوگ کوئی سرپرائز نہیں دیں گے یہ سمجھدار لوگ ہیں ، یہ تو کہہ رہے تھے سینیٹ سے پہلے حکومت ختم ہوجائےگی ، انھوں نے تاثردینے کی کوشش کی کہ یہ تو جیتے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ باتیں بہت ہوئی ہیں مگر گراؤنڈ پر شو زیادہ ڈیلوری کم تھی، پنجاب میں تو انھوں نے ٹوکرہ رکھ کر معاملات طے کرلئے، جمہوریت کی نئی

چال ہے کہ ہارنے والا ہارتسلیم نہیں کررہا، اس مہم کو اتنا لمبا چلایاگیا ہے کہ کئی ایشوز پیدا ہوئے، آج سب امور پرامن طریقے سے ہورہےہیں، کوئی اس پر بات نہیں کررہا کہ انھوں نے پنجاب میں ٹوکرہ کیوں رکھا۔کے پی اور بلوچستان سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کےپی میں بھی بلامقابلہ منتخب ہوجاتے تو اچھا ہوتا، بلوچستان کی

سیاست میں زیادہ واقف نہیں ہوں، کسی کو نہیں پتہ کے پی اور بلوچستان میں کون کون امیدوار ہے ، سب کی نظر میں حفیظ شیخ اور گیلانی امیدوار ہیں۔ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ بکنے والوں اور ضمیر کیساتھ زندہ رہنے والوں کی کمی نہیں، بکنےاور بکنے والوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا الیکشن خفیہ ہیں یا

نہیں، کونسلر بھی الیکشن والے دن بکتے ہیں میں خود ایک ووٹ سے ہاراتھا۔انھوں نے مزید کہا ایک دو ووٹ کم ہوجائیں تو قیامت نہیں آنی جیت ہونی چاہیے، آج اپوزیشن مانند پڑنے جارہی ہے ،لانگ مارچ میں بھی جان نہیں ہوگی، حفیظ شیخ کے ووٹ کم ہویازیادہ جیت ہونی چاہئے، 20ووٹوں کامطلب ہوتاہےکہ10ووٹوں کافرق ہے، ہمیں جمہوریت کو مضبوط ،انتخابی اصلاحات کرنی ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ میں یہ سوچ نہیں رکھتا کہ یوسف رضاگیلانی جیت جائیں گے، میرا ایک ہی پلان ہے اور وہ عمران خان ہے اور عمران خان جیت رہاہے۔