ان دعوؤں کی حقیقت کیا ہے؟بی بی سی کی تہلکہ خیز رپورٹ

ان دعوؤں کی حقیقت کیا ہے؟بی بی سی کی تہلکہ خیز رپورٹ

انڈیا میں کووڈ 19 کی ویکسینیشن مہم کا آغاز 16 جنوری کو ہوا لیکن اس مہم کے آغاز سے قبل، اور اس کے بعد سے اب تک ویکسین سے متعلق کئی قسم کے دعوے سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔ حکومت نے لوگوں کو تلقین کی ہے کہ کورونا سے بچاؤ کے ٹیکے لگوائیں اور ایسی ’افواہوں اور غلط معلومات‘ کو نظر انداز کریں۔ ایسے کیے جانے والے کچھ دعوؤں کی سچائی کیا ہے؟ بی بی سی نے یہ پتا لگانے کی کوشش کی ہے۔ دعویٰ: ویکسین آپ

کو نامرد کر دے گی انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کے ایک سیاستدان نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ کووڈ 19 کی ویکسین انسان کو نامرد کر دے گی لیکن وہ اس سلسلے میں کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے۔ حزب اختلاف کی سماج وادی پارٹی کے رہنما آشوتوش سنہا نے کہا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے ویکسین میں کچھ شامل ہوگا جو آپ کو نقصان پہنچائے گا۔ آپ نامرد ہوسکتے ہیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔‘ جماعت کے رہنما اکھیلیش یادو نے اس سے قبل ویکسین سے

متعلق تشویش ظاہر کی تھی۔ انھوں نے اسے ’(حکمراں جماعت) بی جے پی کی ویکسین‘ کہا ہے اور اس پر اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ لیکن اس حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ویکسین سے آپ نامرد ہوسکتے ہیں۔ انڈیا میں ادویات کے نگراں ادارے نے بھی ایسی افواہوں کی تردید کی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے رہنما آشوتوش سنہا نے دعویٰ کیا ہے کہ کووڈ 19 کی ویکسین انسان کو نامرد کر دے گی لیکن وہ اس سلسلے میں کوئی ثبوت پیش

نہ کرسکے ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ویکسین کا استعمال محفوظ ہے تاہم کچھ منفی اثرات جیسے ہلکا بخار، سوجن یا درد ہوسکتی ہے لیکن اس کی شرح بھی کافی کم ہے۔ انڈیا میں وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے بھی اس دعوے کی تردید کی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ ویکسین کی مہم کے دوران یہ دعویٰ کیا گیا ہو کہ آپ اس سے نامرد ہو سکتے ہیں۔ کئی دہائیوں قبل جب ملک میں وسیع پیمانے پر انسداد پولیو مہم چل رہی تھی تو کچھ

لوگوں کو یہی کہہ کر ویکسین لینے سے روکا گیا تھا۔ اس وقت بھی ان دعوؤں میں کوئی سچائی نہیں تھی۔ اور اب بھی ان سے متعلق کوئی حقیقت نہیں۔ ایک دوسرے دعوی میں ویکسین کے حوالے سے انڈیا کا موازنہ امریکہ اور انگلینڈ سے کیا جاتا ہے۔ یہ وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا دعویٰ ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ انڈیا میں ویکسین مفت ہےجبکہ امریکہ اور انگلینڈ میں اس کے پیسے دینے پڑتے ہیں۔ ٹوئٹر پر ایک صارف نے پوسٹ لگائی تھی کہ امریکہ

میں ویکسین پانچ ہزار انڈین روپے (69 ڈالر) کی ملتی ہے جبکہ انگلینڈ میں اس کی قیمت 3000 روپے ہے۔ اس سے انڈیا میں ویکسینیشن مہم کو امریکہ اور انگلینڈ کی نسبت بہتر دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ خبر انڈیا کے ٹی وی چینل اے بی پی نیوز نے بھی چلائی تھی لیکن بعد میں اسے ہٹا دیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ یہ اعداد و شمار بالکل بھی درست نہیں۔ امریکی وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ کووڈ 19 کی ویکسین مفت ہوگی تاہم اسے لگوانے کے

یا اس کے انتظام کی کچھ معمولی فیس ضرور دینی ہوگی۔ کئی امریکی شہری یہ فیس اپنی ہیلتھ انشورنس سکیم سے باآسانی ادا کر لیں گے۔ جن کے پاس انشورنس نہیں وہ یہ فیس کووڈ 19 ریلیف فنڈ کے ذریعے ادا کر لیں گے۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ امریکہ میں ویکسین لگوانے کے کوئی پیسے نہیں لگیں گے۔ انگلینڈ کے حوالے سے بھی یہ بات درست نہیں۔ یہ برطانیہ میں صحت عامہ کے ادارے این ایچ ایس کا حصہ ہے جہاں ویکسین مفت ہے۔ یہ

سروس ٹیکس کے پیسوں سے چلتی ہے اور ہر مریض کے لیے صحت کی سہولیات مفت ہیں۔ انڈیا میں یہ سچ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں (جس میں ہیلتھ ورکرز اور فرنٹ لائن عملے کو ویکسین دی جا رہی ہے) ویکسیشین مہم مفت ہے۔ تاہم حکومت نے اس حوالے سے وضاحت نہیں کی کہ آئندہ مرحلوں میں کیا ہوگا۔ انڈیا کی حکومت نے ویکسین بنانے والی کمپنیوں سے بات چیت کی ہے اور خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ اس کی قیمت کم

از کم ابتدائی آرڈرز میں کم ہو۔ انڈیا میں بعض اسلامی سکالرز نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی مسلمان کو کووڈ 19 کی ویکسین نہیں لگوانی چاہیے کیونکہ اس میں سور کا گوشت ہوتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے انڈیا میں بعض اسلامی سکالرز نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی مسلمان کو کووڈ 19 کی ویکسین نہیں لگوانی چاہیے کیونکہ اس میں سور کا گوشت ہوتا ہے۔ لیکن انڈیا میں متعارف کرائی گئیں دونوں ویکسینز میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ ماضی میں کچھ

بیماریوں کی روک تھام کے لیے بننے والی ویکسینز کو محفوظ رکھنے کے لیے ان میں سور کے گوشت سے بنا جیلیٹن (پروٹین پر مشتمل لیسدار مادہ) استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اسلام میں سور کا گوشت یا اس سے بنی اشیا کھانا حرام سمجھا جاتا ہے۔ ٹوئٹرپر اس مسئلے پر کافی بات چیت ہوتی رہی اور یہ کہا گیا کہ کورونا ویکسین ’حلال‘ نہیں ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہاں کس ویکسین کی بات ہو رہی ہے کیونکہ مارکیٹ میں کورونا وائرس کی کئی ویکسینز موجود ہیں۔ انڈیا میں تاحال صرف استعمال کے لیے صرف دو ویکسینز منظور ہوئی ہیں۔ ان میں کوویشیلڈ (برطانوی آکسفورڈ-ایسٹرا زینیکا ویکسین کا مقامی نام) اور کوویکسین (بھارت بائیو ٹیک کی جانب سے مقامی طور پر تیار کووڈ 19 ویکسین) شامل ہیں۔ ان دونوں میں سور سے بنا جیلیٹن استعمال نہیں ہوتا۔ فائزر اور موڈرنا کی کورونا ویکسینز بھی سور سے بنے جیلیٹن سے پاک ہیں۔ کورونا ویکسین سے متعلق ایسے کچھ دعوے چینی کمپنیوں کی جانب سے بنائی گئی ویکسینز سے متعلق ہیں۔ تاہم انڈیا میں استعمال کے لیے کسی بھی چینی ویکسین کی منظوری نہیں ہوئی۔ دوسرے ممالک میں بھی چینی ویکسینز سے متعلق نتازعات موجود ہیں۔ جیسے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا میں مقامی مذہبی علما نے چین میں بنی سائنو ویک ویکسین کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ باقی دنیا کی طرح سازشی نظریات پھیلانے والے انڈیا میں بھی یہی افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ کورونا ویکسین میں تو مائیکرو چِپ موجود ہے۔ یہ دعوے سوشل میڈیا پر کئی بار شیئر کیے جا رہے ہیں۔ ایک مختصر سی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ایک اسلامی سکالر کہتا ہے کہ ویکسین میں ایک چِپ ہے جس سے آپ کے ذہن کو کنٹرول کیا جاسکے گا۔ فیس بک اور ٹوئٹر پر گذشتہ ماہ یہ ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ تاہم کسی بھی ویکسین میں مائیکرو چِپ موجود نہیں ہے۔ اس دعوے کو دنیا بھر میں سازشی نظریات پھیلانے والوں نے عام گفتگو کا حصہ بنایا ہے۔