فارن فنڈنگ کیس وزیراعظم عمران خان کے خلاف آنے کا امکان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف آنے کا امکان ہے، اس بات کا دعویٰ معروف صحافی ہارون رشید نے نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ چند ہفتوں میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہونے والا ہے،کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ن لیگ کے دور میں جو الیکشنکمیشن کے ارکان

تھے، ممکن ہے وہ عمران خان کے خلاف فیصلہ دیں۔یاد رہے کہ اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی کے خلاف چھ سال سے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی ہوئی ہے ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو بیرون ملک سے ممنوعہ فنڈنگ ہوئی اور اکبر ایس بابر نے شواہد کی موجودگی کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان

نے کہا ہے کہ ہم خوردنی تیل، گھی، پام آئل درآمد کرتے ہیں، پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر سب سے بڑا چیلنج فوڈ سیکیورٹی ہے ہم نے کیسے اپنی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنی ہیں، حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری قوم کیلئے خوراک کا تحفظ ہے۔نوشہرہ میں زیتون کی شجر کاری کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے

خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا پاکستان کو مختلف چیلنجز درپیش ہیں اس میں سب سے بڑا خوراک کا تحفظ ہے ایک وقت تھا کہ ہم گندم برآمد کرتے تھے اور گزشتہ 2 سال کے عرصے میں پہلے ہم نے 30 لاکھ ٹن گندم درآمد کی اور اس مرتبہ 40 لاکھ ٹن گندم درآمد کی گئی اور اسی طرح چینی بھی درآمد کرنی پڑی۔انہوں نے کہا

کہ زیتون کی پیداوار کے اثرات صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کا اثر پورے پاکستان پر ہوگا۔انہوں نے کہاکہ دوسرا مسئلہ زرِ مبادلہ کے ذخائر کا ہے، ہم دنیا سے جو درآمد کرتے ہیں اور جودنیا کو برآمد کرتے ہیں اس میں بہت فرق ہے جو اب کم ہوگیا ہے تاہم جب حکومت ملی تھی تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ

درپیش تھا، 60 ارب ڈالر کی درآمد کرتے تھے اور برآمدات کا حجم صرف 20 ارب ڈالر تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ ابھی ہماری برآمدات بڑھی ہیں اور درآمدات ہم نے کم کی ہیں لیکن یہ بھی ہمارے لیے بہت بڑاچیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش تیسرا سب سے بڑا مسئلہ ماحولیاتی تبدیلی ہے، پاکستان بدقسمتی سے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہماری آبادی بڑھ رہی ہے اور دنیا

میں دوسری سب سے بڑی نوجوان آبادی ہے انہیں روزگار فراہم کرنا ہے یہ بھی بہت بڑا چیلنجہے، شہروں میں آلودگی بڑھ رہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ 10 ارب سونامی کا مقصد یہ ہے کہ آگے آنے والی نسلوں کی موسمیاتی تبدیلیوں سے حفاظت کی جائے، ان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے۔انہوں نے کہ والدین کو اپنے بچوں کے لیے اور نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے لیے اس 10 ارب درخت سونامی پروگرام میں شرکت کرنیچاہیے کیوں کہ پوری دنیا

میں موسمیاتی تبدیلی بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔عمران خان نے کہا کہ زیتون کی شجرکاری کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں درخت لگائے جائیں اور اس سے زرِ مبادلہ آسکتا ہے، جس پیمانے پر ہم یہاں زیتون کی شجرکاری کررہے ہیں اس سے پاکستان اپنا قیمتی زرِ مبادلہ باہر سے خوردنی تیل منگوانے پر خرچکرنے کے بجائے خود تیار کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوہِ سلیمان کا خطہ، بلوچستان کے میدانی علاقے اور خیبرپختونخوا کے اکثر علاقے ایسے ہیں جہاں کچھ اور اگ

نہیں سکتا وہ زیتون کی کاشت کے لیے بہترین ہیں، اس سے نہ صرف ان علاقوں میں طویل العمر درخت اْگے گا بلکہ اسے ہم برآمد کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس کیشجرکاری سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ہمارے ڈالر بچیں گے، اسپین سے زیتون کا تیل بہت ایکسپورٹ کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں اس سے سے زیادہ صلاحیت موجود ہے، ہم دنیا میں زیتون کے سب سے بڑے برآمد کندگان میں شامل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سے ہمارے شہروں میں آلودگی کا مسئلہبھی حل ہوگا، اس کے علاوہ جاپانی طریقہ کار سے اربن پلانٹیشن کی جارہی ہے جس سے 30 سال کے بجائے 10 سال میں درخت پروان چڑھ جاتے ہیں اور آکسیجن بھی زیادہ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہم اس پروگرام میں پھلوں کے درخت شامل کیے جائیں گے جس سے لوگوں کے روزگار کا مسئلہ حل ہوگا، پاکستان میں 12 موسم ہیں جس کیوجہ سے یہاں مختلف درخت اْگائے جاسکتے ہیں جس سے آمدنی میں اضافہ ہوگا اور اس کے لیے پاکستان کے مختلف علاقوں کی زوننگ کی جائے گی۔قبل ازیں وزیراعظم نے ضلع نوشہرہ میں 10 بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت پودا لگا کر زیتون کی شجرکاری کا آغاز کیا، اس موقع پر ان کے ہمراہ وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور گورنر شاہ فرمان بھی موجود تھے۔ موضوعات:فارن

فنڈنگ کیس یہ فیصلے ہمارے نہیں ہوتے(پہلا حصہ)واجد شمس الحسن بنیادی طور پر صحافی تھے‘ عین جوانی میں ایڈیٹر بن گئے‘ والد سید شمس الحسن مسلم لیگی اور قائداعظم کے دست راست تھے‘ یہ لوگ دہلی میں رہتے تھے‘ والد کا پرنٹنگ پریس تھا‘ مسلم لیگ کی تمام دستاویز‘ پوسٹرز اور اشتہارات اسی پریس سے شائع ہوتی تھیں‘ قائداعظم نے ڈان اخبار شروع کیا تو سید شمس ….مزید پڑھئے‎واجد شمس الحسن بنیادی طور پر صحافی تھے‘ عین جوانی میں ایڈیٹر بن گئے‘ والد سید شمس الحسن مسلم لیگی اور قائداعظم کے دست راست تھے‘ یہ لوگ دہلی میں رہتے تھے‘ والد کا پرنٹنگ پریس تھا‘ مسلم لیگ کی تمام دستاویز‘ پوسٹرز اور اشتہارات اسی پریس سے شائع ہوتی تھیں‘ قائداعظم نے ڈان اخبار شروع کیا تو سید شمس ….مزید پڑھئے‎