دن گنے جا چکے۔۔اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے ناراض۔۔۔ متبادل کے طور پر کسے لایا جا رہاہے؟ ایسا نام سامنے آیاکہ سب ہو ش اڑ گئ

دن گنے جا چکے۔۔اسٹیبلشمنٹ عمران خان سے ناراض۔۔۔ متبادل کے طور پر کسے لایا جا رہاہے؟ ایسا نام سامنے آیاکہ سب ہو ش اڑ گئ

لاہور (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی نجم سیٹھی سے سوال کیا گیا کہ ابھی تک اسٹیبلشمنٹ پاکستان تحریک انصاف کی حکمت کے پیچھے کھڑی ہے،کیا واقعی سٹیبلشمنٹ پورے طریقے سے عمران خان کے ساتھ ہے؟ عمران خان کے مائنس ہونے کی صورت میں کون سی جماعت کے ساتھ کام کرنا اسٹیبلشمنٹ کے لیے آسان ہو گا۔سوال کا جواب

دیتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ پوری اسٹیبلشمنٹ کیا ہوتی ہے، دو یا تین لوگ ہوتے ہیں باقی تو ان کی پیروی کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بےچین تو ہیں،کچھ معاملات پر عمران خان کے ساتھ ناراض بھی ہیں۔تاہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ وزیراعظم عمران خان کی چھٹی کرانی ہے یا نہیں۔اگر

انہیں کوئی اچھی آپشن مل جاتی تو سوچ بھی لیتے لیکن ابھی تک ایسی کوئی آپشن ان کے سامنے نہیں آئی،آصف علی زرداری نے اسٹیبلشمنٹ کو کچھ آپشنز دکھانے کی کوشش کی لیکن اس کے اندر اس طرح سے گارنٹیز نہیں دی گئیں۔کیونکہ جو بھی آپشن ہو گی سب سے بڑا مسئلہ یہ ہو گا کہ میاں نواز شریف کا رویہ کیسا ہو گا،ن لیگ کیا

کرے گی اور کیا نہیں کرے گی۔اس لیے یہ معاملہ یہاں رکا ہوا ہے۔نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی لیڈرشپ پریشان نہیں ہے،انہیں پی ڈی ایم کے ختم ہونے کا بھی خوف نہیں ہے۔۔واضح رہے کہ پی ڈی ایم میں دراڑ کا خدشہ اس وقت سامنے آیا جب آصف علی زرداری نے نواز شریف سے

وطن واپسی کا مطالبہ کیا تاہم اپوزیشن اتحاد کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمان نے سابق صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے مذکورہ رابطہ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے دو روز قبل

اسمبلیوں سے استعفے دینے کی تجویز سے انکار کے بعد حکومت مخالف لانگ مارچ ملتوی کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا.یپلزپارٹی میں موجود ذرائع کے مطابق آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان نے ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے کو اکٹھے استعفوں کے معاملے پر راضی کرنے کی کوشش کی، تاہم آصف زرداری نے اپنے موقف پر زور دیا

کہ وہ اس طرح اسمبلیوں سے واپس نہیں آئیں گے کیونکہ اس طرح کی صورتحال صرف ’اسٹیبلشمنٹ‘ اور وزیراعظم عمران خان کے ہاتھوں کو مضبوط کرے گی.