سعودی عرب کی اہم ترین شخصیت کاانتقال

سعودی عرب کی اہم ترین شخصیت کاانتقال

ریاض(نیوز ڈیسک)سعودی عرب کے معمر ترین موذن شیخ ناصر 118 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔۔شیخ ناصر الھلیل البدیع کو مسلسل 80 برس تک البطینہ جامع مسجد میں پنجگانہ نمازوں کی اذان دینے کی سعادت حاصل ہوئی ۔۔ ان کا آج رضائے الٰہی سے انتقال ہو گیا۔ شیخ ناصر بن عبداللہ کی انتقال کے وقت عمر 118 سال تھی۔ وہ

سعودی عرب کے معمر ترین موذن تھے جو 112 سال کی عمر تک جامع مسجد میں اذان دیتے رہے۔تاہم بعد میں شدید بیمار ہونے کے بعد ان کے لیے یہ مقدس فریضہ انجام دینا ممکن نہ رہا۔سعودی ویب سائٹ سبق کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ان کا گزشتہ روز انتقال ہو گیا ہے۔ جس پر سارے سعودی عرب میں سوگ کی فضا ہے۔ ان سے

محبت رکھنے والے ہزاروں افراد انتقال کی خبر سُن کر دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ شیخ ناصر الھلیل سعودی عرب کی الافلاج کمشنری کی تحصیل البدیع میں مقیم تھے اور یہیں کی مشہور مسجد البطینہ جامع مسجد میں مسلسل 80 سال تک بلاناغہ پانچوں فرض نماز کی اذان دیتے رہے۔اتنی مستقل مزاجی سے لوگوں کو اللہ کے گھر

اس کی عبادت کے لیے بُلانے کی عظیم سعادت پر انہیں سعودی عرب میں لازوال شہرت حاصل ہو گئی تھی۔ ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ 42 برس تک الافلاج میں ادارہ اوقاف کے موذن کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے۔ تاہم 112 سال کی ان کی بیماری بگڑ گئے ، جس کے بعد وہ مسجد میں حاضری دینے کی سکت نہ رکھتے تھے۔ آخر

کئی برس تک بیماری سے لڑنے کی کشمکش کے بعد ان کا 118 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ شیخ ناصر الھلیل کی وفات پر سوشل میڈیا بھی ان کے لیے تعزیتی پیغامات اور مغفرت کی دعاؤں کے پیغامات سے بھر گیا۔ لوگوں کی جانب سے مرحوم شیخ ناصر کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دُعا کی گئی ہے کہ اللہ ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔