وہی ہوا جس کا ڈر تھا، چینی کی قیمتوں کے حوالے سے تشویشناک خبر آگئی

وہی ہوا جس کا ڈر تھا، چینی کی قیمتوں کے حوالے سے تشویشناک خبر آگئی

لاہور (نیوزڈیسک) کاشتکاروں کوتحفظ دینے کے لیے لایا گیا آرڈیننس گزشتہ رات منسوخ ہوگیا ، دی شوگر فیکٹریز کنٹرول آرڈیننس کی منسوخی کے بعد کین کمشنر بے بس ہوگئے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق دی شوگر فیکٹریز کنٹرول آرڈیننس گزشتہ رات 12 بجے ختم ہوگیا ، آرڈیننس پنجاب اسمبلی سے منظور نہ ہونے پر اس کی مدت میں 90 دن

کا اضافہ کیا گیا ، تاہم آرڈیننس کی پنجاب اسمبلی سے مقررہ مدت میں منظوری کی حکومتی کوشش ناکام ہوگئیں اور 90 دن کی توسیع کے بعد بھی یہ آرڈیننس پنجاب اسمبلی سے منظور نہ ہوسکا۔بتایا گیا ہے کہ آرڈیننس منسوخ ہونے پر شوگر ملز مالکان کےخلاف کارروائی نہیں ہو سکے گی ، مزکورہ آرڈیننس کے تحت شوگر ملز مالکان

کو گنا خرید کر رسید دینے کا پابند بنایا گیا تھا ، آرڈیننس کے تحت شوگر ملز مالکان کو 3 سال قید اور 50 لاکھ جرمانہ کی سفارش کی گئی تھی۔دوسری طرف کسان اتحاد نے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر 31 مارچ کو لاہور میں دھرنے کا اعلان کردیا ، بجلی ڈیزل اور کھاد مہنگی ہونے کے خلاف کسان اتحاد کی جانب سے ملتان میں ایک ریلی

نکالی گئی ، جس میں کسان رہنماؤں کی طرف سے 31 مارچ کو لاہور میں دھرنے کا اعلان کیا گیا ، بتایا گیا کہ ملتان میں کسان اتحاد نے ٹریکٹر ریلی کی صورت میں ملتان میں احتجاجی مارچ کیا جس میں شرکاء نے مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں بجلی ، ڈیزل اور کھاد مہنگی ہے لیکن زرعی اجناس کے ریٹ کم ہیں ، اس

صورتحال میں ٹیوب ویل کے لیے بجلی کے بل معاف کیے جائیں جب کہ کھاد اور ڈیزل پر سبسڈی دی جائے۔قبل ازیں پاکستان کسان اتحاد نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں 31 مارچ کو اسلام آباد کا رُخ کرنے کا بھی اعلان کیا تھا ، پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی سیکرٹری جنرل چوہدری حسان اکرم نے کہا کہ اگر حکومت نے ہوش کے

ناخن نہ لیے اور مطالبات تسلیم نہ کیے تو 31 مارچ کو پنجاب بھر سے ہزاروں کسان ٹریکٹر ٹرالیوں پر سوار ہو کر اسلام آباد کا رخ کریں گے جہاں دمام دم مست قلندر ہوگا اور کسان مطالبات کی منظوری تک دھرنا دیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہمارے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے مہنگائی کو کنٹرول میں کرے ، کھاد بیج سمیت تمام زرعی

مداخل کے ریٹس کو کم کیا جائے ، جب کہ بھارت سے زرعی اجناس درآمد نہ کی جائیں ، اور بجلی بلوں پر ناجائز ٹیکس اور بقایا جات ختم کیے جائیں۔ قبل ازیں صوبہ پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے قصبے حجرہ شاہ مقیم میں پاکستان کسان اتحاد زیر اہتمام حجرہ شاہ مقیم اور تحصیل بھر سے اوکاڑہ تک ٹریکٹر مارچ کیا گیا جس میں سیکڑوں ٹریکٹروں پر سوار کسانوں نے حکومت مخالف نعرے بازی کی ، ٹریکٹر مارچ کے دوران قصور ملتان روڈ اور اوکاڑہ دیپالپور روڑ بلاک ہو گئے جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔