پی ڈی ایم کو بڑا جھٹکا :پی پی پی اور پی ٹی آئی میں دوستی ، ملکی سیاست میں کیا بڑا ہونے جا رہا ہے ؟ تہلکہ خیز تفصیلات

پی ڈی ایم کو بڑا جھٹکا :پی پی پی اور پی ٹی آئی میں دوستی ، ملکی سیاست میں کیا بڑا ہونے جا رہا ہے ؟ تہلکہ خیز تفصیلات

لاہور (ویب ڈیسک) مجھے لگتا ہے کہ اگر پی پی پی ڈی ایم کا حصہ نہ رہی تو پی ٹی آئی اور پی پی پی بھی قریب آسکتی ہیں کیونکہ عمران خان اور طاقتور حلقوں کا تضاد مسلم لیگ (ن) اور شریفوں سے ہے،زرداریوں سے نہیں۔نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم یں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بار پی پی پی اور پی ٹی آئی کے کچھ

سینئر رہنمائوں نے یہ عندیہ دیا تھا کہ اُن کا آپس میں کوئی بڑا تضاد نہیں۔ بہت سے انصافین ماضی میں جیالے رہے ہیں جن میں شاہ محمود قریشی، فردوس عاشق اعوان، پرویز خٹک اور فواد چوہدری شامل ہیں۔پی پی پی کو پنجاب میں خاص طور پر جنوبی پنجاب میں جگہ چاہئے۔ عمران خان کے سابق دستِ راست جہانگیر ترین سیاست

سے نااہل ہوئے ہیں، باہر نہیں۔ آئندہ الیکشن میں اُن کا کردار اہم ہوگا۔زرداری صاحب کی خان صاحب پر مہربانیاں بھی رہی ہیں۔ چاہے معاملہ 2018 سے پہلے بلوچستان میں مسلم لیگ کو ’’لاپتہ‘‘ کرکے جام کمال کو لانے کا ہو یا بلوچستان عوامی پارٹی بنوانے کا۔ اس وقت بھی استعفوں کے معاملے پر بحران کا فائدہ سیاسی طور پر خان صاحب

کو ہی جاتا ہے۔اب دیکھتے ہیں آنے والے وقت میں پی پی پی کہاں کھڑی ہوگی ’’انصاف کے ساتھ یا تاریخ کے ساتھ‘‘۔رہ گئی بات ہمارے مولانا فضل الرحمٰن کی۔ پچھلے ڈھائی سال سے اسلام آباد پر چڑھائی کرکے عمران کو ہٹانے میں لگے ہوئے ہیں۔ پہلے چاہتے تھے اپوزیشن حلف نہ لے نتائج مسترد کرکے تحریک چلائے۔ پھر بات استعفے دے کر تحریک

چلانے پر آئی اور بیچ میں یہ کہہ کر اسلام آباد کی طرف ملین مارچ کیا کہ زرداری صاحب اور میاں صاحب نے یقین دہانی کروائی تھی۔ اب تو شاعر سے معذرت کے ساتھ یہیں کہوں گا کہ مولانا یہ کہتے ہوئے روانہ ہوئے کہ ؎میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر۔۔نہ لوگ ساتھ آئے نہ قافلہ بن پایا۔۔