’’ نواز شریف پاکستان کو دبئی بنانا چاہتے تھے۔۔۔‘‘ عمران خان ابھی تک کوئی معاشی ماڈل کیوں نہیں لا سکے؟ شبر زید ی کے ناقابلِ یقین انکشافات

’’ نواز شریف پاکستان کو دبئی بنانا چاہتے تھے۔۔۔‘‘ عمران خان ابھی تک کوئی معاشی ماڈل کیوں نہیں لا سکے؟ شبر زید ی کے ناقابلِ یقین انکشافات

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی کا کہنا ہے کہ نواز شریف پاکستان کو دبئی بنانا چاہتے تھے ۔عمران خان اب تک کوئی معاشی ماڈل ہی نہیں بنا سکے۔ جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف ٹیکس چوری میں حصہ دار اور کیش اکانومی کرتے تھے۔ عمران خان ہر سسٹم چلتے رہنے پر

تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میثاق معیشت ضروری ہے، ٹیکس لینا ہوگا۔شبر زیدی نے مزید کہا کہ ڈاکٹر عشرت اور ارباب شہزاد کی مخالفت پر مستعفی ہوا۔ پاکستان میں ٹیکس چوری اور تمباکو کی غیر قانونی تجارت کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شبر زیدی نے بتایا کہ سینئر بیوروکریٹ ارباب شہزاد اور ڈاکٹرعشرت

حسین نے بورڈ آف ریونیو کو پاکستان ریونیو سروس میں تبدیل کرنے کی مخالفت کی تو استعفی دے کر گھر آ گیا۔شبر زیدی نے کہا کہ سگریٹ ٹیکس سے 150 ارب روپے مل سکتے ہیں۔سگریٹ کی صنعت میں غیر رجسٹرڈ اداروں کو ٹیکس نیٹ ورک میں لانا ہوگا اور وہ بطور چیئرمین ایف بی آر مینو فیکچر پر ٹیکس ختم اور گھر پر ٹیکس عائد

کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ا یک روپے کے سگریٹ میں 74 پیسے ٹیکس چوری ہوتا ہے۔سگریٹ سے ٹیکس وصول کیے بغیر معیشت آگے نہیں بڑھے گی۔سگریٹ پر ٹیکس وصولی سے قومی خزانے میں 150 ارب روپے جمع ہو سکتے ہیں۔ شبر زیدی نے کہا کہ کم تنخواہ لینے والی بیوروکریسی پاکستان کو ٹھیک نہیں کر سکتی۔ایف بی آر کو

پاکستان ریوینیو سروس میں بدلنا ہو گا۔دریائے سندھ کے 8 پل بند کر دیں تو اسمگلنگ ختم ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ آٹھ پل بند ہونے سے غیر قانونی اسمگلنگ دو گھنٹے میں ختم ہو جائے گی۔شبر زیدی نے مزید کہا کہ واز شریف پاکستان کو دبئی بنانا چاہتے تھے ۔عمران خان اب تک کوئی معاشی ماڈل ہی نہیں بنا سکے