’’آصف زرداری نے کہا تھا کہ اس شخص کو ۔۔۔ ‘‘ مریم نواز کا ناقابلِ یقین انکشاف، نیا پنڈوراباکس کھول دیا

’’آصف زرداری نے کہا تھا کہ اس شخص کو ۔۔۔ ‘‘ مریم نواز کا ناقابلِ یقین انکشاف، نیا پنڈوراباکس کھول دیا

لاہور(نیوز ڈیسک ) مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی بار دیکھا سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سرکاری ارکان سے مل کر بنا، سینیٹ میں چھوٹے سے فائدے اور عہدے کیلئے بی اے پی سے ووٹ لیاگیا۔ زرداری سب پر بھاری والی بات شرمندگی ہے۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیگی

نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ آصف زرداری نےکہاتھان لیگ اور پی ڈی ایم مانےتو پنجاب میں عدم اعتمادکرکےپرویزالہٰی کو وزیراعلیٰ بنا دیں ۔حکومت کوٹف ٹائم دینےکیلئےن لیگ،مولانافضل الرحمان اور پی ڈی ایم کی دیگرجماعتیں ہی کافی ہیں ۔ لیگی رہنما نے مزید کہا کہ ایک طرف لوگ آئین و قانون کی خاطر جدوجہد کر

رہے ہیں، دوسری طرف لوگ چھوٹے سے فائدے کیلئے بیانیے کو روند رہے ہیں، چھوٹے سے عہدے کیلئے جمہوری جدوجہد کو بڑا نقصان پہنچایا گیا، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا چھوٹا سا عہدہ ہے، اپوزیشن لیڈر سینیٹ کا عہدہ مل جاتا تو ہم نے کونسی حکومت بنا لینی تھی، آپ کو چھوٹا سا عہدہ چاہیئے تھا تو نواز شریف سے مانگ لیتے۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ پاکستان کے عوام جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، پرویز مشرف دنیا کے سامنے نشان عبرت بن چکے، پہلی بار دیکھا اپوزیشن لیڈر کو بی اے پی نے ووٹ دیا، عوام دیکھ رہے ہیں کون کس کے ساتھ ہے، اپنے اصول قربان کر کے پورے ملک پر بھاری ہوسکتے ہیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ چھوٹے سے فائدے اور عہدے کیلئے بی

اے پی سے ووٹ لے لیا، پہلی بار دیکھا پیپلزپارٹی کے امیدوار کو باپ کے لوگوں نے باپ کے کہنے پر ووٹ دیا۔ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے ن لیگ، مولانا اور دیگر جماعتیں کافی ہیں، آپ کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ بی اے پی نے آپ کو ووٹ دیا۔ اگر سلیکٹ ہونا ہے تو آپ کو عمران خان کی پیروی کرنی چاہیئے، جمہوریت اور عوامی طاقت پر

یقین رکھنے والے ڈیل کر کے نہیں نکلتے۔ واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز کی 12 اپریل تک عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے نیب کو گرفتاری سے روک دیا تھا۔عدالت نے دس لاکھ کے دو مچلکوں کے عوض مریم نواز کی ضمانت منظور کی تھی۔مریم نواز کی طرف سے وکیل اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز نے لاہور ہائیکورٹ میں دلائل دیئے تھے۔