سکولوں کو کھولنے کا اعلان کر دیا گیا، تاریخ دیدی گئی

سکولوں کو کھولنے کا اعلان کر دیا گیا، تاریخ دیدی گئی

لاہور(ٹوڈے نیوز) وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے کہا ہے کہ کوشش ہے پنجاب میں 11 اپریل کے بعد سکول کھل جائیں، پچھلے سال بچوں کو فیسوں میں رعایت اور نجی سکول بند کردیے تھے، اس بار بچوں کے والدین اور سکولوں دونوں کو ریلیف دینا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیرصدارت کابینہ کمیٹی

کا اجلاس ہوا، جس میں کورونا کی صورتحال، ایس اوپیز پر عملدرآمد اور لاک ڈاؤن سے متعلق مشاورت کی گئی۔صوبائی وزیر سکولز ایجوکیشن پنجاب مراد راس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب ہم نے گزشتہ برس سکول بند کئے تھے تو بچوں کو فیسوں میں رعایت دی تھی اور کئی سکول بند بھی ہوئے، اس بار ہم نے بچوں کے والدین

کو بھی ریلیف دینا ہے اور سکولوں کو بھی۔انہوں نے بتایا کہ 26 اضلاع میں سکولز بند نہیں کئے گئے اور وہاں پر ایس او پیز کے مطابق بچے سکول جا رہے ہیں، ہماری پوری کوشش ہوگی کہ دیگر اضلاع کے سکولز بھی 11 اپریل کے بعد کھل جائیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے اساتذہ کے وفد کے ساتھ میری

ملاقات ہوچکی ہے او رہم نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ ان کے جائز مطالبات 5 سے 9 اپریل تک حل کر دئیے جائیں گے تاہم اساتذہ نے اپنی کمٹمنٹ پوری نہیں کی۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ احتجاج کرنے والے اساتذہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کررہے ہیں، وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اس معاملے پر میٹنگ کی ہے اور بعض وزراء کو معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔حکومت نہیں چاہتی کہ اساتذہ کے ساتھ سختی کی جائے۔ مزید برآں اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ ہم اس وقت

کورونا وائرس کی تیسری لہر کا مقابلہ کر رہے ہیں اورموجودہ لہر پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ پہلے دو فیز کی نسبت کورنا کا تیسرا فیز بہت شدت کا حامل ہے۔ کورونا مریضوں کے مثبت کیسز کا تناسب 14 فیصد ہو چکا ہے جبکہ لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد اور ملتان میں زیادہ مثبت کیس ہیں۔لاہور میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا مثبت ٹیسٹ کی شرح 21 فیصدرہی جو انتہائی تشویشناک ہے – تیسری لہر کی وجہ سے ہسپتال تیزی سے بھر رہے ہیں اور ہیلتھ سسٹم دباؤ کا شکار ہو رہا ہے -اس مرحلے پر کورونا پر کنٹرول بہت

ضروری ہے کیونکہ ہم صنعتیں اور کاروبار بند کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ بندشوں کے حق میں نہیں مگر یہ عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ وہ آج وزیراعلیٰ آفس میں کابینہ کمیٹی برائے انسداد کورونا کے اہم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کررہے تھے۔ صوبائی وزراء ڈاکٹر یاسمین راشد، مراد راس، یاسر ہمایوں، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیف سیکرٹری،انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (داخلہ)اور سیکرٹری پرائمری و سکینڈری ہیلتھ کیئر بھی اس موقع پر موود تھیں -وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کابینہ کمیٹی برائے انسداد کورونا کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں اور کورونا کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب کے

بعض شہروں میں اس وقت کورونا کی صورتحال تشویشناک ہے – پنجاب میں اب تک کورونا کے پازیٹوکیسوں کی تعداد 215227ہوچکی ہے جبکہ گزشتہ روز کورونا کے2309پازیٹو کیس سامنے آئے۔پنجاب میں ایکٹو کیسوں کی تعداد 23106 تک ہوچکی ہے-پنجاب میں تشویشناک حالت میں مریضوں کی تعداد 252 تک پہنچ چکی ہے جبکہ پنجاب میں اب تک کورونا کے باعث 6244 مریض انتقال کرچکے ہیں اور گزشتہ 24گھنٹے کے دوران کورونا کے 39 مریضوں کا انتقال ہوا-24گھنٹے کے دوران کوروناکے15780 ٹیسٹ کئے گئے- وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کابینہ کمیٹی برائے کورونا کنٹرول کے اجلاس میں عوام کی زندگیوں کے تحفظ کے لئے اہم فیصلے کئے گئے – پنجاب حکومت معاشی

سرگرمیوں پر کسی قسم کی پابندیاں نہیں لگا رہی اور انڈسٹریز، گڈز ٹرانسپورٹ اور کنسٹرکشن انڈسٹریزمعمول کے مطابق ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھیں گی- یکم اپریل سے وہ اضلاع جہاں کورونا کی شرح 12 فیصد سے زائد ہے وہاں پر عوام کی زندگیوں کے تحفظ کے لئے موثر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے تا کہ کورونا کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔یہ لاک ڈاؤن 11اپریل تک جاری رہے گا تا ہم کابینہ کمیٹی اس کا 7 روز بعد ازسرنو جائزہ لے گی اور حالات دیکھ کر مزید اقدامات لینے کا فیصلہ کرے گی-وزیراعلیٰ نے بتایاکہ یکم اپریل سے شادی کی تقریبات کے اجتماعات پر مکمل پابندی ہوگی – میرج ہال مکمل طور پر بند کر دیئے جائیں گے اور ان ڈور اور آؤٹ

ڈور کسی قسم کی تقریبات کسی بھی جگہ منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ماس ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں میٹروبس سروس، اورنج میٹروٹرین اور سپیڈو بس سروس شامل ہیں۔ تمام ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں ان ڈور اور آؤٹ ڈور کھانے کی پابندی ہوگی تاہم Take Away اور ہوم ڈلیوری کی سروس جاری رہے گی-اسی طرح سپورٹس، کلچرل، سوشل اور دیگر تقریبات پر مکمل پابندی ہوگی اور پارکس بند رکھے جائیں گے۔مارکیٹوں او ربازاروں کو شام 6 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ ہفتے میں 2 دن دکانیں مکمل طور پر بند رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ ماسک پہننے سے آپ نہ صرف خود بچ سکتے ہیں بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی کورونا سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

حکومت پنجاب مختلف پابندیوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہے -انہوں نے کہاکہ پنجاب میں کورونا ٹیسٹ کے لئے 22 بی ایس ایل تھری لیب کام کر رہی ہیں اورجہاں 15 ہزارسے زائد روزانہ ٹیسٹ کئے جا سکتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اب تک صوبہ بھر میں 126 ویکسینیشن سنٹر قائم کئے گئے ہیں اور مجموعی طور پر اب تک 456000 ویکسین ڈوزز آچکی ہیں اور 121527 ہیلتھ کیئر ورکرز کو پہلی ڈوز دی جا چکی ہے جبکہ 54885 ہیلتھ کیئر ورکرز کو دوسری ڈوز بھی مل چکی ہے، اسی طرح 60 سال سے زائدعمر کے 151447 شہریوں کی ویکسینیشن ہو چکی ہے – انہوں نے کہاکہ کورونا سے نمٹنے کے لئے حکومت پنجاب کی پوری انتظامی مشینری بشمول محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر تمام محکمے پوری طرح آپ کی خدمات اور حفاظت کے لئے مامور ہے۔میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ حکومتی احکامات جوآپ کی زندگی اور صحت کے لئے ناگزیر ہیں – ان پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں کیونکہ آپ کا اور آپ کے خاندان کی زندگی کا مسئلہ ہے اور حکومتی اداروں سے بھرپور تعاون کریں -وزیراعلیٰ نے میڈیا کے سوالو ں کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ایس او پیز کی جہاں خلاف

ورزی ہوگی وہاں قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔میں نے چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایات جاری کردیں ہیں کہ وہ ایس او پیز پر عملدرآمد کی خود نگرانی کریں۔ ایک اورسوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ موثر لاک ڈاؤن کے دوران ہم ہر چیز بند نہیں کریں گے، کوشش کریں گے کہ لوگوں کو کم سے کم تکلیف ہو، ہمارے اقدامات کا مقصد کورونا کا پھیلاؤ روکنا ہے کیونکہ یہ زندگیوں کا مسئلہ ہے اور موثر طریقے سے ایس او پیز پرعملدرآمد کرانے سے ہی اس مرض کا پھیلاؤ کم ہوگا۔ہم چاہتے ہیں کہ معیشت کا پہیہ بھی چلے اور عوام کی صحت کا خیال بھی رکھا جائے۔ دنیا کے بہترین ہیلتھ سسٹم والے ممالک میں بھی یہ مرض کنٹرول میں نہیں آیا۔ اس سلسلے میں میڈیا کا تعاون بھی بہت ضروری ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبے کے تعلیمی ادارے بھی 11 اپریل تک بند رہیں گے اور پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی اس لئے لگائی ہے کہ لوگ گھروں سے کم نکلیں۔