گلگت بلتستان کی سالوں بعد سُنی گئی! وزیر اعظم عمران خان کا بڑا فیصلہ، گلگت کی عوام کو خوش کر دیا

گلگت بلتستان کی سالوں بعد سُنی گئی! وزیر اعظم عمران خان کا بڑا فیصلہ، گلگت کی عوام کو خوش کر دیا

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) وزیرِ اعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کے لئے تاریخی ڈویلپمنٹ پیکیج کی منظوری دے دی۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت گلگت بلتستان کی ترقی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا ، اجلاس میں وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، وزیرِ خزانہ محمد حماد اظہر، وزیرِ مواصلات مراد

سعید، وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق، وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید، ڈپٹی چئیرمین پلاننگ کمیشن و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں اجلاس میں گلگت بلتستان کی ترقی کے لئے تاریخی پیکیج کی منظوری دے دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کی ترقی موجودہ حکومت

کی ترجیحات میں شامل ہے، مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں کی بدولت خطے میں جہاں تعمیر و ترقی کا نیا باب روشن ہوگا وہاں علاقے کے مسائل کا موثر حل اور نوجوانوں کو نوکریوں کے بے شمار مواقع میسر آئیں گے،گلگت بلتستان میں سیاحت کا بے شمار پوٹینشل موجود ہے جسے برؤےکار لانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر

وزیرِ اعظم کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان کو ہدایت کی گئیں کہ سیاحت کے فروغ اور ماحولیاتی تحفظ پر خصوصی توجہ دی جائے۔ دوسری جانب حکومت نے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کا 10سال کا فرانزک آڈٹ کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے، مختلف سرکاری اداروں اور کمپنیوں کو 500 ارب روپے سالانہ خسارے کا سامنا ہے، پہلے

مرحلے میں30 جون تک پاکستان ریلوے، پی آئی اے اور سوئی ناردرن کا فرانزک آڈٹ کروایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کو سرکاری اداروں اور کمپنیوں کے 500 ارب روپے سالانہ خسارے کے معاملے پر بریفنگ دی گئی۔جس پر وزیر اعظم عمران خان نے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کا 10سال کا فرانزک آڈٹ

کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پاکستان پوسٹ آفس، کوئٹہ، حیدرآباد، لاہور ، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کا فرانزک آڈٹ ہوگا۔ پہلے مرحلے میں پاکستان ریلوے، پی آئی اے اور سوئی ناردرن کا فرانزک آڈٹ ہوگا۔پہلے مرحلے میں ان کمپنیوں کا فرانزک آڈٹ 30 جون تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن مقررکی گئی ہے۔وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا

کہ 85 سرکاری کمپنیوں میں سے 33 کمپنیاں اربوں روپے خسارے میں ہیں۔ 33 کمپنیوں میں سے 3 کمپنیاں 85 فیصد نقصان کی ذمہ دار ہیں۔ حکومت کو سرکاری اداروں اور کمپنیوں کی وجہ سے 500 ارب روپے سالانہ خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وفاقی کابینہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کے فرانزک آڈٹ کی منظوری دے

چکی ہے۔ پشاورالیکٹر ک سپلائی کمپنی اور ناردرن پاور جنریشن کمپنی کے آڈٹ کی بھی منظوری دی جاچکی ہے۔دوسری جانب براڈ شیٹ اسکینڈل کی انکوائری رپورٹ بھی وزیراعظم عمران خان کو پیش کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق قانونی ٹیم نے رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کی، جس کے بعد وزیراعظم نے رپورٹ کابینہ میں پیش

کرنے کی ہدایت کر دی۔ کابینہ جائزہ لے کر رپورٹ پبلک کرنے کی منظوری دے گی۔ رپورٹ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ واضح رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید نے 100 صفحات پر مشتمل رپورٹ میںغلط شخص کو کی گئی ادائیگی کو ریاست پاکستان کے ساتھ دھوکہ قرار دیا ہے۔رپورٹ میں ان کا کہنا ہے کہ ادائیگی کو صرف بے احتیاطی قرار نہیں دیا جاسکتا، براڈشیٹ کمیشن کو تمام تفصیلات نیب کی دستاویزات سے ملیں۔مشرف دور میں نیب نے بیرون ملک اثاثوں کی کھوج کے لیے براڈشیٹ سے معاہدہ کیا تھا۔