شہباز شریف نواز شریف سے زیادہ قابل قبول ، حمزہ شہباز مریم نواز سے زیادہ ہوشمند۔۔۔تو پھر باپ بیٹے کو سائیڈ لائن کرنے کی اصل کہانی کیا ہے ؟ عارف نظامی کا خصوصی تبصرہ

شہباز شریف نواز شریف سے زیادہ قابل قبول ، حمزہ شہباز مریم نواز سے زیادہ ہوشمند۔۔۔تو پھر باپ بیٹے کو سائیڈ لائن کرنے کی اصل کہانی کیا ہے ؟ عارف نظامی کا خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عارف نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔دیکھا جائے تو مسلم لیگ ن “زیر وسم” اپروچ سے میاں صاحب اور اب ان کی صاحبزادی سیاست کو سیاہ اور سفید میں دیکھتے ہوئے فیصلے کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جوڑ توڑ صرف انہی کی شرائط پر ہو سکتا ہے۔ اسی بنا پر وہ فوجی قیادت سے مات کھا گئے

اور انہیں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے۔ حال ہی میں سینیٹ کی معرکہ آرائی جس میں وہ جیتی ہوئی بازی بھی ہار گئے ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری جو بڑے شاطرانہ انداز سے مہرے کھیلتے ہیں، اپنی کمزوریوں کو اپنے مضبوط پوائنٹس بنا کر سیاست میں کامیاب ہوگئے۔ اس کے برعکس میاں نواز شریف کا حال یہ

ہے کہ انہوں نے اپنے برادر خورد میاں شہباز شریف کو جو کوٹ لکھپت میں پابند سلاسل ہیں، کھڈے لائن لگا رکھا ہے۔ حمزہ شہباز جو پنجاب میں مریم نواز سے زیادہ موثررابطے رکھتے ہیں ،کو بھی ہنوزسائیڈ لائن کر رکھا ہے۔ مریم نواز شریف نے انگور کھٹے ہیں کہ مصداق موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ صف بندی

ہوچکی ہے اور واضح لکیر کھنچ گئی ہے، ایک طرف وہ لوگ کھڑ ے ہیں جو قربانیاں دے کر عوام اور آئین کی خاطر جدوجہد کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے چھوٹے سے فائدے کے لئے جمہوری روایات کو روند ڈالا، عوام پہچا ن گئے ہیں کہ کس کا کیابیانیہ ہے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ چھوٹے سے عہدے کے لئے آپ نے باپ

سے ووٹ لے لئے، اگر یہ عہدہ چاہئے تھا تو آپ نواز شریف سے بات کر لیتے ، وہ آپ کو ووٹ دے دیتے ، آپ نے اس باپ سے ووٹ لئے جو اپنے باپ کی اجازت کے بغیر کسی کو ووٹ نہیں دیتا۔ شاید یہ پہلی مثال ہے کہ لیڈر آف دی اپوزیشن حکو مت سلیکٹ کر رہی ہے، ان کا کہنا تھا جب آپ سمجھتے ہیں کہ سوائے سلیکٹ ہونے کے آپ کے پاس

کوئی راستہ نہیں تو آپ تا بعداری کرتے ہیں، آپ چاہے خود کو جتنی بھی تسلیاں دے لیں لیکن آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ آپ کو باپ نے ووٹ دئیے ہیں۔ مریم نواز کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ بیمار ہوگئی ہیں،اللہ انہیں شفا دے، ان دنوں انہیں اپنی سیاسی حکمت عملی پر بھی ٹھنڈے دل سے غور کر نا چاہیے۔