’’ ماضی میں اپوزیشن کے بندے توڑ کر ۔۔۔‘‘ شاہد خاقان عباسی نے حمزہ شہباز کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے سے متعلق بہت بڑا دعویٰ کر دیا

’’ ماضی میں اپوزیشن کے بندے توڑ کر ۔۔۔‘‘ شاہد خاقان عباسی نے حمزہ شہباز کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے سے متعلق بہت بڑا دعویٰ کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تجویز پر طنز کیے ہیں۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان کا کہنا تھاکہ پنجاب میں بھی حکومتی بنچزسے حکومتی ارکان پکڑلیں تو حمزہ شہباز وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا

تھاکہ ماضی میں اپوزیشن کو توڑ کر حکومت کو ارکان دیے جاتے تھے لیکن اس بار حسب ذائقہ حکومت سے ارکان اپوزیشن کو دیے گئے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھاکہ پیپلزپارٹی 5 ایم پی ایز کے ساتھ پنجاب میں وزیراعلیٰ کا فیصلہ کرنا چاہتی ہے، ایسا اس صورت میں ممکن ہے جب حکومت ان کا ساتھ دے۔انہوں نے پیپلزپارٹی کو فرینڈ

لی اپوزیشن کا طعنہ دیا اور کہا کہ عوام کو سینٹ میں فرینڈلی نہیں حقیقی اپوزیشن چاہیے جو انہیں ملے گی ۔شاہد خاقان عباسی نے وفاقی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ جنوبی پنجاب سے متعلق پی ٹی آئی کی نیت عوام کے سامنے آگئی، تین سال بعد بھی نہ جنوبی پنجاب صوبہ بنا، نہ بہاولپوراور نہ ہزارہ پر بات ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ اورافسروں کے اختیارات پر بار بار نوٹیفکیشن جاری کرکے یوٹرن پر یوٹرن لیے جارہے ہیں۔خیال رہے کہ اس سے قبل پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما سید حسن مرتضیٰ نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘ہم نے پنجاب [اسمبلی] میں تبدیلی کے لیے باضابطہ طور پر اپنی کوششیں شروع کر دی ہیں اور آنے والے دنوں

میں بھی اس میں شدت پیدا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ عوام عیدالفطر کے بعد خوشخبری سنیں گے کیونکہ حکمران پاکستان تحریک انصاف کے دو درجن سے زیادہ قانون ساز ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں۔سید حسن مرتضیٰ نے کہا کہ پارٹی نے وزیر اعلی کے عہدے کے لیے اپنے امیدوار کو آگے لانے سے پہلے ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) کو ایوان کی

دوسری بڑی جماعت ہونے کی پیش کش کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سید حسن مرتضیٰ نے کہا کہ ان کی پارٹی مسلم لیگ (ن) کو پنجاب اسمبلی میں اپنی عددی طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی چیف ایگزیکٹو کے دفتر کے لیے نامزد امیدوار کا اعلان کرنا چاہیے اور پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی۔