تمام کوششیں رائیگاں! ایف آئی اے نے پھر بڑا قدم اُٹھا لیا، جہانگیر ترین اور علی ترین کے حوالے سے بڑی خبر

تمام کوششیں رائیگاں! ایف آئی اے نے پھر بڑا قدم اُٹھا لیا، جہانگیر ترین اور علی ترین کے حوالے سے بڑی خبر

لاہور (نیوز ڈیسک ) ایف آئی اے نے جہانگیر ترین اور علی ترین کو 9 اپریل کو طلب کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے جہانگیر ترین کو 2 جب کہ ان کے صاحبزادے علی ترین کو ایک مقدمے میں طلب کیا گیا ہے ، اس ضمن میں ایف آئی اے کی طرف سے جاری کردہ نوٹس میں جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے

علی ترین کو 5,5 سوالات پر مشتمل علیحدہ علیحدہ سوالنامہ بھی بھجوایا ہے ، جس کے جوابات بھی 9 اپریل کو ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔قبل ازیں ایف آئی اے نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء جہانگیر ترین گروپ کے بزنس اور فیملی اکاؤنٹس کا فرانزک آڈٹ کروانے کا فیصلہ کیا ، جہانگیر ترین کی ملکیت میں آنے والے کاروبار اے ٹی

ایف مینگو فارم لودھراں، جے کے ڈیریز کے علاوہ ان کے بیٹے علی ترین ، کمپنی کے عہدیدار رانا نسیم اور جے کے شگر ملز خانیوال کے اکاؤنٹ کا بھی فرانزک کروایا جائے گا ، بتایا گیا ہے کہ معروف کاروباری شخصیت جہانگیر ترین کی تینوں بیٹیوں ، جہانگیر ترین کے اپنے اکاؤنٹ اور اے کے ٹی شوگر مل کا اکاؤنٹ بھی فرانزک آڈٹ کروایا جائے گا۔

دوسری طرف سیشن کورٹ لاہور نے جہانگیر ترین کی ضمانت قبل از گرفتاری 10 اپریل تک منظور کرلی ، جہانگیر ترین نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لیےسیشن کورٹ سے رجوع کیا تھا ، اس ضمن میں دائر کی گئی درکواست میں جہانگیر ترین نے موقف اختیار کیا کہ مجھ پر اور علی ترین پر لگائے گئے الزامات بےبنیاد ہیں ، مالیاتی امور میں

صاف اور شفاف ہوں ، ہمارے پاس اثاثوں کی مکمل منی ٹریل موجود ہے ، بتایاگیا ہے کہ جہانگیر ترین اورعلی ترین بینکنگ کورٹ لاہو ر میں بھی ضمانت کے لیے پیش ہوئے ، جس کے بعد بینکنگ کورٹ لاہو رمیں بھی جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کی ضمانت 7 اپریل تک منظور کرلی ، بینکنگ کورٹ کا جہانگیر ترین اور علی ترین

کو 5 پانچ لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ مجھ پرلگے الزامات بے بنیاد ہیں ، تینوں مقدمات سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے ، دس سال پہلے جو کمپنی نے فیصلے کیے ان کو چیلنج کیاجارہاہے ، کمپنی کے فیصلوں سے متعلق تحقیقات کرناایف آئی اے کا کام نہیں ہے ، کمپنی کے

فیصلوں سے متعلق تحقیقات ایس ای سی پی، ایف بی آر کا کام ہے ، ایف آئی اے نے جان بوجھ کر منی لانڈرنگ کا لفط ڈال کر تحقیقات شروع کیں ، انہوں نے کہا کہ میری عادت نہیں کہ کسی چیز سے لاتعلقی کا اظہار کروں، مجھ پر مقدمہ ہے، ہم عدالت میں ثابت کریں گے کہ مقدمہ بے بنیاد ہے ، ہم عدالت میں پیش ہوگئے ہیں، اپنا موقف پیش کریں گے اور سرخروہوں گے۔