ضیاء اور بھٹو ایک چھت کے نیچے کیسے اکٹھے بیٹھ سکتے ہیں ؟ ارشاد بھٹی نے زبردست مثال دے کر پی ڈی ایم کا مستقبل بتا دیا

ضیاء اور بھٹو ایک چھت کے نیچے کیسے اکٹھے بیٹھ سکتے ہیں ؟ ارشاد بھٹی نے زبردست مثال دے کر پی ڈی ایم کا مستقبل بتا دیا

کراچی( ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان علینہ فاروق شیخ کے پہلے سوال اے این پی کی علیحدگی سے پی ڈی ایم کے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا؟ کا جواب دیتے ہوئے مظہر عباس نے کہا کہ پی ڈ ی ایم کا اتحاد مسلسل سکڑتا جارہا ہے، ایسا لگتا ہے جلد ہی پی ڈی ایم حقیقی معرض وجود میں آجائے گی، پی ڈی ایم

رہے نہ رہے عمران خان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، پروگرام میں بے نظیر،شاہ، ارشاد بھٹی ، حسن نثاراورمنیب فاروق نے بھی اظہار خیال کیا،مظہر عباس کا کہنا تھا کہ عمران خان کا اصل مقابلہ پی ٹی آئی سے ہے، وزیراعظم کو پرابلم پی ٹی آئی کے اندر یا اتحادیوں کی طرف سے آرہی ہے۔مظہر عباس کا کہنا تھا کہ 2018ء کے الیکشن کے

بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ اکٹھی ہوجاتیں تو پی ٹی آئی کیلئے حکومت بنانا مشکل ہوجاتا، عمران خان خوش قسمت وزیراعظم ہیں کہ انہیں ایسی اپوزیشن ملی جو آپس میں اپوزیشن کرتی ہے۔ ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا نہ کوئی مستقبل تھا، نہ کوئی مستقبل ہے، نہ کوئی مستقبل رہے گا، اپوزیشن نے عوام کے مسائل اجاگر کرنے کے

بجائے آپس میں دست و گریباں ہے، پچھلے ڈھائی سال میں اپوزیشن کی کوئی سمت نظر نہیں آئی، پی ڈی ایم غیرنظریاتی لوگوں کا غیرنظریاتی اور غیرفطری اتحاد تھا، ایک چھت کے نیچے کیسے بھٹو اور ضیاء الحق اکٹھے بیٹھ سکتے ہیں۔