نواز شریف کا فضل الرحمان سے ہنگامی رابطہ! کس چیز پر اتفاق کر لیا؟ اپوزیشن اتحاد بارے بڑے فیصلے

نواز شریف کا فضل الرحمان سے ہنگامی رابطہ! کس چیز پر اتفاق کر لیا؟ اپوزیشن اتحاد بارے بڑے فیصلے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان مسلم لیگ ن کے قائدنوازشریف نے اپوزشین جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل ہم خیال اپوزیشن جماعتوں کو لانگ مارچ کی تیاری کا مشورہ دے دیا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ،

جس میں عوامی نیشنل پارٹی کیا جانب سے پی ڈی ایم سے علیحدگی کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل دیگر 8 جماعتوں سے بھی رابطہ کیا جنہوں نے حکومت مخالف اتحاد برقرار رکھنے کا اعلان کیا

ہے۔ تاہم پاکستان پیپلزپارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا حصہ رہنے یا نہ رہنے کا معاملہ سی ای سی پر چھوڑ دیا ، پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنماء سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے شوکاز نوٹس کا جواب دینے سے متعلق سی ای سی فیصلہ کرے گی ، پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم کا حصہ رہنے یا نہ

رہنے کا معاملہ سی ای سی کے سپرد کردیا ہے ، پی ڈی ایم کا کوئی آئین نہیں اور پیپلزپارٹی کسی کو جوابدہ نہیں ہے ، تاہم جمہوریت میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں ، اگر مسلم لیگ ن کو کوئی مسئلہ تھا تو بات کرنی چاہیئے ، جب کہ پبلک اکاوَنٹس کمیٹی بھی مسلم لیگ ن کو اکثریت پر ملی۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ

اس سے پہلے عوامی نیشنل پارٹی نے بھی پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے، اے این پی رہنماء امیر حیدرہوتی نے کہا کہ پی ڈی ایم کے منشور کی حمایت جاری رکھیں گے، ن لیگ پنجاب اور جےیوآئی لاڑکانہ میں پی ٹی آئی کا ساتھ دینے پر وضاحت دیں، شوکاز نوٹس کا مقصد اے این پی کو سیاسی نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں

نے پارٹی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کو شوکاز نوٹس دینے کا اختیار صرف اسفند یار ولی خان کو ہے ، وضاحت چاہیے تھی تو ویسے ہم سے وضاحت مانگ لیتے ہم وضاحت دے دیتے ، کیا پنجاب میں

مسلم لیگ ن کی جانب سے پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کی وضاحت نہیں بنتی؟ لاڑکانہ میں جے یوآئی اور پی ٹی آئی کا اتحاد ہوا ہے، کیا اس پر وضاحت نہیں بنتی؟ ہمیں مولانا صاحب سے توقع تھی کہ وہ سربراہ پی ڈی ایم کی حیثیت سے قدم اٹھائیں گے۔