این اے 75 ضمنی انتخاب:مریم نوازشریف نے حلقے کے ووٹرز کیلئے ناقابل یقین پیغام جاری کر دیا

این اے 75 ضمنی انتخاب:مریم نوازشریف نے حلقے کے ووٹرز کیلئے ناقابل یقین پیغام جاری کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے ووٹ کیلئے لوگوں کو گھروں سے نکلنے کی اپیل کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ سے ظالم، چور، عوام دشمن حکومت کو آخری دھکا دیں، شیرو! بتا دو کہ ڈسکہ ووٹ چوروں کو کیسے سزا دیتا ہے۔ انہوں نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ڈسکہ کی میری مائیں، بہنیں،

بیٹیاں، بزرگ، بھائی، بیٹے سب گھروں سے نکلیں اور اپنے ووٹ سے ظالم، چور، عوام دشمن حکومت کو آخری دھکا دیں۔آپ کا ایک ووٹ عوام کو مزید مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی تباہی سے بچا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیرو! پورے پاکستان کو بتا دو کہ ڈسکہ ووٹ چوروں کو کیسے سزا دیتا ہے۔دوسری جانب قومی اسمبلی کے حلقہ

75 ڈسکہ میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گی.ضمنی انتخاب کے معرکے میں پاکستان تحریک انصاف کے علی اسجد ملہی اور مسلم لیگ (ن) کی نوشین افتخار میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے جبکہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے

امیدوار خلیل سندھو بھی انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں. حلقے میں ووٹرز کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 94 ہزارہے جن کے لیے 360 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 47 کو حساس قرار دیا گیا ہے ضمنی انتخاب کے دوران حلقے میں عام تعطیل ہے جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکورٹی کے انتہائی سخت

اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور پولیس کے 4 ہزار سے زائد اور رینجرز کے ایک ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں.اس کے علاوہ پاک فوج کی 10 ٹیمیں کوئیک رسپانس فورس کے طور پر موجود رہیں گی ضمنی انتخاب کے موقع پر حلقے میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے جس کے باعث لائسنس یا بغیر لائسنس یافتہ اسلحہ کی نمائش پر پابندی

ہے. شفاف اور پرامن انتخاب کے لیے چیف الیکشن کمشنر خود انتخاب کی نگرانی کریں گے واضح رہے کہ 19 فروری کو قومی اسمبلی کے حلقہ 75 (سیالکوٹ 4) میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پرتشدد واقعات ہوئے تھے اور فائرنگ کے واقعے میں 2 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی بھی ہوئے تھے اور20 پریزائیڈنگ افسران پولنگ بیگز کے

ہمراہ لاپتہ بھی ہوگئے تھے جو اگلے روز صبح 6 بجے آر او دفتر پہنچے.ضمنی انتخاب میں نتائج میں غیر ضروری تاخیر اور عملے کے لاپتا ہونے پر 20 پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں ردو بدل کے خدشے کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے متعلقہ افسران کو غیر حتمی نتیجے کے اعلان سے روک دیا تھا مسلم لیگ (ن) نے دھاندلی کے الزامات عائد کر کے

دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا تھا جس پر وزیراعظم عمران خاں نے ڈسکہ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 پر ہوئے ضمنی انتخاب میں مبینہ دھاندلی کے الزامات پر پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سے 20 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی درخواست دینے کا کہا تھا.جس پر فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن نے شفافیت اور غیر جانبداری

کو یقینی بناتے ہوئے این اے 75 ڈسکہ کا ضمنی الیکشن کالعدم قرار دیا اور 18 مارچ کو حلقے میں دوبارہ انتخاب کروانے کا حکم دیا تھا جس پر اس ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والے پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا. درخواست میں انہوں نے موقف اپنایا تھا کہ الیکشن کمیشن نے صورتحال اور حقائق

کو بالکل فراموش کرتے ہوئے فیصلہ کیا جو ”واضح طور پر غیر منصفانہ اور غیر قانونی“ ہے درخواست گزار کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے دستیاب ریکارڈ کا درست جائزہ نہیں لیا، حلقے میں دوبارہ انتخابات کا کوئی جواز نہیں ہے.بعد ازاں 25 مارچ کو سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے ضمنی انتخاب کو ملتوی کرنے کا

حکم دے دیا تھا جس کے بعد ضمنی انتخاب کی تاریخ بڑھا کر 10 اپریل کردی گئی تھی. 2 اپریل کو سپریم کورٹ نے حلقے میں دوبارہ ضمنی انتخاب کرانے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اس کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی درخواست مسترد کردی تھی۔