مریم نواز کی درخواست ضمانت! لاہور ہائیکورٹ نے بڑا فیصلہ جاری کر دیا

مریم نواز کی درخواست ضمانت! لاہور ہائیکورٹ نے بڑا فیصلہ جاری کر دیا

لاہور(نیوز ڈیسک ) لاہور ہائی کورٹ میں جاتی امرا اراضی کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی گرفتاری سے انکار پر عدالت نے درخواست ضمانت نمٹا دی۔جاتی امرا اراضی کیس میں مریم نواز کی درخواست ضمانت پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور

جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔دوران سماعت مریم نواز اور نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر فیصل بحاری عدالت میں پیش ہوئے۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے مریم نواز کی درخواست پر جواب جمع کرا دیا ہے۔عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ ‘کیا مریم نواز کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری

کیے گئے ہیں’، اس پر وکیل نیب نے عدالت کو بتایا کہ ‘مریم نواز کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے گئے ہیں’۔مریم نواز کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی ‘اگر گرفتار کرنا ہو تو ہمیں پہلے بتایا جائے تاکہ عدالت سے رجوع کر سکیں’۔بعد ازاں عدالت نے حکم جاری کیا کہ ‘اگر گرفتار کرنا ہو تو نیب 10 روز قبل مطلع کرے’۔لاہور ہائی کورٹ کے باہر

مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جس کا مقابلہ نہیں کرسکتا نیب ان کے پیچھے پڑ جاتا ہے، لانگ مارچ کی تاریخ پر گرفتار کرنا چاہتے تھے تو تحقیقات کھول دیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ڈسکہ عوام کو دل کی گہرائیوں سے شاباش دینا چاہتی ہوں ووٹ پر پہرہ دیا، ووٹ چوروں کے حلق سے سیٹ جیتی ووٹ چوروں بجلی

چوروں کا احتساب کیا’۔انہوں نے کہا ک ‘ڈسکہ کی فتح نہیں بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے، مسلم لیگ (ن) نے مقابلہ ریاستی مشینری اور جعلی حکومت سے کیا’۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ ‘حکومت نے رانا ثنااللہ پر جھوٹا مقدمہ بنایا ہے مسلم لی (ن) پوری عوامی قوت کے ساتھ ان کے سامنے کھڑی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ

اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم قائم ہے جو جماعتیں ہیں وہ بہت اپنے ہدف کے لیے پرعزم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘پی ڈی ایم کا مقصد عوام کو ریلیف اور ملکی سمت درست کرنا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘پی ڈی ایم کا نوٹس پی ڈی ایم ہی کا تھا، اب کیا کرنا ہے یہ مولانا فضل الرحمن فیصلہ کریں گے اور وہ ہی بلاول بھٹو کے خط کا جواب دیں گے’۔انہوں

نے بتایا کہ ‘ضمنی انتخاب کے لیے کراچی جارہی ہوں، عوام سے اپیل ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو کراچی سے کامیاب بنائیں تاکہ ہم آپ کی زندگیاں بہتر بنا سکیں اور کراچی کو امن کا گہوارہ بناکر ترقی دی جاسکے’۔واضح رہے کہ نیب نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کو اراضی کی مبینہ غیر قانونی منتقلی سے متعلق کیس میں تحقیقات کے

لیے 26 مارچ کو طلب کیا تھا۔تاہم نیب نے بعد میں ان کی پیشی کو ملتوی کردیا تھا۔مریم نواز کو منی لانڈرنگ اور رائیونڈ میں اراضی کی مبینہ غیر قانونی منتقلی کے سلسلے میں نیب کی دو انکوائریز کا سامنا ہے۔نیب نے مریم نواز کو جاتی امرا میں تقریباً 1480 کنال اراضی کی مبینہ غیر قانونی منتقلی کی تحقیقات کے لیے 26 مارچ کو

طلب کیا تھا۔نیب کا کہنا تھا کہ 2013 میں شریف خاندان نے کم و بیش ساڑھے 3 ہزار کنال اراضی انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے حاصل کی۔ادارے نے کہا تھا کہ 2015 میں اس وقت کے ڈی سی او نورالامین مینگل اور لہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) احد خان چیمہ و دیگر کی مبینہ ملی بھگت سے لاہور کا ماسٹر پلان ہی تبدیل کروا دیا گیا جبکہ شریف خاندان کی انتظامیہ سے ملی بھگت سے جاتی امرا میں ہزاروں

کنال اراضی کو گرین لینڈ ایریا ڈکلیئر کروایا گیا۔نیب لاہور کے جاری کردہ نوٹس میں مریم نواز کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ پیشی کے لیے تمام مطلوبہ ریکارڈ اپنے ہمراہ لائیں۔واضح رہے کہ نیب لاہور نے مریم نواز کو 26 مارچ کو ہی چوہدری شوگر ملز کیس کی تحقیقات میں بھی طلب کیا تھا۔نیب نے مریم نواز سے کہا تھا کہ وہ چوہدری شوگر ملز میں 86 لاکھ 40 ہزار روپے کی سرمایہ کاری کی رقم کے ذرائع کی تفصیلات بتائیں جبکہ 2008 میں

غیر ملکیوں سے ان کے نام منتقل کیے گئے چوہدری شوگر ملز کے ایک کروڑ 15 لاکھ 27 ہزار روپے کے شیئرز کی خریداری کا معاہدہ یا ٹرانسفر ڈیڈ دکھائیں۔اسی کیس میں نیب نے لاہور ہائی کورٹ میں چوہدری شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔