پی ڈی ایم کو بچانے کے لیے بڑا فیصلہ! مولانا فضل الرحمان نے (ن) لیگ کو کیا مشورہ دے دیا؟ ملکی سیاست میں نیا موڑ

پی ڈی ایم کو بچانے کے لیے بڑا فیصلہ! مولانا فضل الرحمان نے (ن) لیگ کو کیا مشورہ دے دیا؟ ملکی سیاست میں نیا موڑ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان مسلم لیگ ن کو پیپلزپارٹی اور اے این پی کی پی ڈی ایم سے علیحدگی کے معاملے میں اشتعال انگیزی سے گریز کرتے ہوئے نرم لہجے میں جواب دینے کا مشورہ دے دیا۔ میڈیا ذرائع کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان

مسلم لیگ ن کے رہنماء سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ہے ، جس میں پیپلزپارٹی اور اے این پی کی پریس کانفرنسز سے متعلق امور پرغور کیا گیا ، جب کہ ملاقات میں پی ڈی ایم کی آئندہ کی حکمت عملی پر بھی مشاورت کی گئی۔ذرائع کے

مطابق اس دوران گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نوٹس کو پھاڑنا کوئی ذمہ دار عمل نہیں ہے ، لیکن ہمیں اشتعال انگیزی سے گریز کرتے ہوئے نرم لہجے میں جواب دینا ہوگا ، ہمیں معاملے کو ذمہ دارانہ انداز میں حل کرنا ہوگا۔دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک

موومنٹ کے عہدوں سے استعفے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کو بھجوادیے ، پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف ، سینیٹر شیری رحمان اور سابق وفاقی وزیر قمرالزمان کائرہ نے استعفے پی پی پی رہنماء نیئر حسین بخاری کو جمع کرائے ، جس کے بعد سیکریٹری جنرل پاکستان پیپلزپارٹی نیئر حسین

بخاری نے اپنی جماعت کے رہنماء کے پی ڈی ایم عہدوں سے دیے گئے تمام استعفے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ بھجوا دیئے۔یاد رہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارٹی کی

سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی ایم کے شوکاز نوٹس کو مسترد کر دیا اور تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ، بلاول بھٹو نے شوکاز نوٹس جاری کرنے پر پی ڈی ایم سے مطالبہ کیا کہ وہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے بلا مشروط معافی مانگے۔