پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی کوششیں متحدہ عرب امارات کیوں کر رہا ہے ؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی کوششیں متحدہ عرب امارات کیوں کر رہا ہے ؟ - Sabee Kazmi

لاہور (ویب ڈیسک)ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان خفیہ رابطے اور بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے جس کی ثالثی متحدہ عرب امارات کر رہا ہے۔جب متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ مارچ میں اچانک دہلی گئے تو سرگوشیوں نے مزید زور پکڑا۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ

دونوں ممالک کے انٹیلیجنس اہلکاروں نے جنوری میں دبئی میں ایک خفیہ میٹنگ کی تھی۔بالآخر 15 اپریل کو امریکہ میں متحدہ عرب امارات کے سفیر يوسف العتيبہ نے اس کے متعلق بتا ہی دیا۔ انھوں نے سٹینفورڈ یونیورسٹی میں ہونے والی ایک ورچوئل گفتگو میں کہا کہ متحدہ عرب امارات نے کشمیر پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم

کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔متحدہ عرب امارات کے سفیر نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات اب ایک ’صحت مند‘ مرحلے پر پہنچ جائیں گے جہاں وہ ایک دوسرے سے بات کریں گے اور اپنے اپنے سفیروں کو ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں واپس بھیجیں گے۔ ’ہو سکتا ہے کہ وہ قریبی دوست نہ بنیں، لیکن

ہم چاہتے ہیں کہ وہ بات کرنا شروع کر دیں۔‘متحدہ عرب امارات کے سفیر کے بیان کے تین دن بعد انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جیا شنکر اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ابو ظہبی بھی گئے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ متحدہ عرب امارات نے انڈیا اور پاکستان کے مابین امن قائم کرنے میں کیا کردار ادا کیا ہے۔سوال یہ ہے کہ

اس چھوٹی سی خلیجی ریاست نے اس انتہائی مشکل کام کی ذمہ داری کیوں اٹھائی ہے؟ یہ ان دو بڑے ممالک پر کتنا اثر رکھتی ہے؟قدیم یونان میں سپارٹا نامی شہر اپنی فوجی صلاحیت کے سبب ایک خاص شہرت رکھتا تھا۔ امریکہ کے سابق وزیرِ دفاع جم میٹیس نے متحدہ عرب امارات کے فوجی عزائم کو دیکھتے ہوئے اسے ’لٹل سپارٹا‘ کا نام

دیا ہے۔یہ چھوٹا سا خلیجی ملک یمن سے لے کر افغانستان، لیبیا اور مشرقی افریقہ میں ہونے والی فوجی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ لیکن گذشتہ کچھ برسوں سے یہ ملک امن کے لیے ثالثی کرنے والی ریاست کی شبیہہ بننے کی کوشش کر رہا ہے۔اس کے پیچھے اصل طاقت ابو ظہبی کے طاقتور شہزادے محمد بن زید کی ہے ۔سنہ 2016 میں

متحدہ عرب امارات نے ایتھوپیا اور اریٹیریا کے درمیان امن کے قیام میں کردار ادا کیا تھا۔ اس نے ایتھوپیا اور سوڈان کے درمیان سرحدی تنازع کو حل کرنے کے لیے ثالثی کی تھی۔ اس نے دریائے نیل پر ایک ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے ایتھوپیا اور مصر کے درمیان تنازع کو حل کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کیا تھا۔کسی زمانے میں متحدہ عرب امارات،

لیبیا میں ملیشیا کے رہنما خلیفہ ہفتار کو ہتھیار سپلائی کرنے والوں میں ایک اہم ملک تھا۔ اب وہ وہاں کسی سیاسی حل کی بات کر رہا ہے۔ یقیناً انھوں نے یہ راستہ ترکی کی لیبیا میں فوجی مداخلت کے بعد ہی اختیار کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی فوجی سرگرمیاں بھی کم کر دی ہیں۔لیکن انڈیا اور پاکستان کو قریب لانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ متحدہ عرب امارات کا اب تک کا سب سے بڑا امن منصوبہ ہے۔