نامور کالم نگار نے کیا جواب دیا تھا ؟

نامور کالم نگار نے کیا جواب دیا تھا ؟ - Sabee Kazmi

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔70ءکی دہائی کے وسط میں جب میں نے آمدن اور اخراجات کی خلیج پاٹنے کیلئے ریڈیو پر کام شروع کیا تو پہلے پہل ملنے والے دو تحفوں کے نام شوکت علی اور پرویز مہدی تھے۔آج دونوں ہمارے درمیانتونہیں لیکن دلوں میں ضرور موجود ہیں ۔رہے ضیاء شاہد

تو میری پروفیشنل زندگی میں ان کا رول ایک سنگ میل کا سا ہے ۔میرا ان کا تعلق سلام دعا تک محدود تھا ۔ہماری پہلی باقاعدہ ملاقات راولپنڈی ایئرپورٹ پر ہوئی یہ دن تھے جب وہ ’’پاکستان‘‘ کے بعد دوسرا اخبار نکالنے کی تیاریاں شروع کر رہے تھے ۔مجھ سے وعدہ لیا کہ جب اخبار نکلا تو میں ان کیلئے کالم لکھوں گا ۔بات آئی گئی

ہو گئی کہ چند دنوں بعد ہی ’’گلزار ہائوس ‘‘ میں ٹھہری محترمہ بے نظیر بھٹو نے مجھے ’’مساوات‘‘ کی ادارت سنبھالنے کو کہا تو میں نے یہ کہتے ہوئے معذرت کرلی کہ ’’بی بی !مجھے روزناموں کا کوئی تجربہ نہیں۔میں تو ماہناموں، ہفت روزوں کا آدمی ہوں‘‘ وہ چپ کر گئیں تو ہفتہ دس دن بعد بیرسٹر شہزاد جہانگیر جو بعدازاں اٹارنی

جنرل پاکستان بھی رہے سلمان تاثیر کے ساتھ میرے گھر ماڈل ٹائون تشریف لائے اور روزنامہ ’’مساوات ‘‘ ٹیک اوور کرنے کو کہا ۔میں نے وہی ناتجربہ کاری والی بات کی تو شہزاد جہانگیر مرحوم نے کہا ’’بھاڑ میں گئی تمہاری ناتجربہ کاری ‘‘ وہ بڑے بھائیوں جیسے تھے جبکہ سلمان تاثیر سے بھی خاصی گپ شپ تھی ۔میں نے کریدا تو

معلوم ہوا کہ کچھ اور لوگوں کے علاوہ ان دونوں نے بھی ’’مساوات‘‘ میں انویسٹمنٹ کا فیصلہ کیا ہے اور میری وہاں موجودگی ’’ضروری ‘‘ہے۔ قصہ مختصر میں نے ’’مساوات‘‘ جوائن کرلیا تو دوسری طرف ضیاء شاہد صاحب کے اخبار کی آمد مسلسل التوا کا شکار رہی اور ان کی بات بھی ذہن سے محو ہو گئی