اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف معاملہ، وزیراعلیٰ پنجاب سے چیف سیکریٹری اور فردوس عاشق اعوان کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف معاملہ، وزیراعلیٰ پنجاب سے چیف سیکریٹری اور فردوس عاشق اعوان کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی - Sabee Kazmi

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی )سیالکوٹ واقعے سے متعلق چیف سیکرٹری پنجاب اور فردوس عاشق اعوان نے وزیراعلیٰم ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں کا کیا ہوا؟ اندورنی کہانی سامنے آگئی ہے۔ پنجاب حکومت کےذمہ دار ذ رائع کے مطابق اسپیشل برانچ اور آئی بی نے سیالکوٹ میں معاون خصوصی برائے اطلاعات اور اسسٹنٹ کمشنر

سیالکوٹ کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی پراپنی رپورٹس سے وزیراعلی کو آگاہ کردیا ہے۔نجی ٹی وی اے آروائی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلی سے ملاقات میں چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک نے وزیراعلی سردار عثمان بزداز پر واضح کیا کہ وہ نہ صرف اپنے موقف پر قائم ہیں بلکہ اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑے ہوں گے، چیف سیکرٹری نے عثمان بزدار کو بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف اور دیگر انتظامی افسران سخت گرمی میں دن

رات محنت کررہے ہیں کسی بھی سرکاری افسر یا عملے کے ساتھ غیر اخلاقی زبان استعمال کرنا اس کی شدید مذمت کرتا ہوں۔وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات میں چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کا کہنا تھا کہ وزیراعلی صاحب آپ کی مشاورت سے ہم ان افسران تعینات کرتے ہیں،فردوس عاشق اعوان نے جو جملے کہے وہ آپ کے سامنے ہیں۔دوسری جانب فردوس عاشق اعوان نے اسسٹنٹ کمشنر سے تلخ کلامی کے بعد وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ان کے

غیر پیشہ ورانہ رویہ پر شکایت لگائی جس پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اے سی سونیا صدف کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دے دیا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ وزیراعلی عثمان بزدار نے سیالکوٹ واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے اور اس حوالے سے غیر جانبدارانہ انکوائری کی ہدایت کی ہے۔اس واقعہ کی ہر پہلو سے تحقیقات ہوں گی اور وزیراعلی عثمان بزدار کو انکوائری رپورٹ پیش کی جائے گی۔ انیوں نے اے سی سیالکوٹ کے

حوالے سے کہا کہ جو خواتین عوام کی خدمت کے لئے ایئرکنڈیشنڈ سے باہر نہیں نکل سکتیں تو ان کو چاہیے کہ وہ اس نوکری کی بجائے کوئی اور آسان راستہ اختیار کرلیں انہوں نے کہا کہ رمضان بازارسیالکوٹ میں عوامی ریلیف سے جڑا معاملہ بدنظمی کا شکار ہوا اور چیف سیکرٹری پنجاب کو حقائق مسخ کر کے بتائے گئے۔میں نے پنجاب کے مختلف علاقوں کے رمضان بازاروں کا دورہ کیا۔ کہیں ایسا رویہ دیکھنے کو نہیں ملا۔ ہر شہر میں چینی دوکلو جبکہ سیالکوٹ میں ایک کلو فی صارف دی جارہی تھی۔جہاں کوتاہی ہو نشاندہی وہاں ہی کی جاتی ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ عوام کو چینی کے لئے لائنوں میں کھڑا کر کے عوامی استحصال پر وزیراعلی نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔