میاں شہباز شریف کا کڑوا مگر سچا بیان

میاں شہباز شریف کا کڑوا مگر سچا بیان

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ سب سے پہلے میں نے نیب نیازی گٹھ جوڑ کی بات کی اور بشیر میمن کے بیان نے تین سال بعد اس حقیقت پر مہر ثبت کر دی ہے ،عمران خان کے یوٹرنز بہت ہیں اس لئے اب کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں، حکومت کو عوام کی کوئی پروا نہیں اسے صرف انتقام

کی پڑی ہے،اپوزیشن کو چور کہنے کی بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دی جاتی توآج حالات مختلف ہوتے ،یہ غربت یا بیروزگاری نہیں بلکہ صرف اپوزیشن کو ختم کرنا چاہتے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن سے عید کے بعد ملاقات طے ہوئی ہے۔ میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کا انتقام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں ،بدترین اور فاشسٹ حکومت اس سے زیادہ کہیں نہیں دیکھی ۔ہم نے ان کا

ظلم اور صعوبتیں برداشت کی ہیں ،چینی، آٹا، مالم جبہ، بی آر ٹی سمیت کیسز ہیں لیکن کوئی نہیں پوچھتا،ہم انصاف اور قانون کو آگے لے کر چلیں گے اور نیب قوانین میں ضرورت ہوئی تو تبدیلی لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت کو کوئی غرض نہیں کہ عوام کو آٹا، چینی، دوائی کتنی مہنگی مل رہی ہے،عوام بھوک سے بے حال ہو رہے ہیں۔کورونا آیا تو انہیں تمام وسائل اور توانائیاں ویکسین کی خریداری پر لگا دینی چاہئے تھیں،ہمیں ڈینگی کا کچھ علم نہیں تھا لیکن ہم نے اپنا سارا زور لگا دیا ،میں سری لنکا سے آنے والے ڈاکٹروں کو لینے خود ایئرپورٹ گیا

،مجھے اس وقت ڈاکٹر نے کہا کہ ڈینگی سے 25 ہزار لوگ انتقال کر سکتے ہیں ،مجھے یہ سن کر ساری رات نیند نہیں آئی کہ ہمارے پاس کوئی وسائل نہیں ۔اگر 200لوگ جان بحق ہو گئے تو ہر گھر سے جنازے نکلیں گے ،لیکن ہم نے دیوانہ وار کام شروع کر دیا ،پہلے سال 250 اور اگلے سال ایک بھی موت نہیں ہوئی،فجر کی نماز پڑھ کر گھروں سڑکوں سے پانی نکالا اور اسپرے کرایا۔وزیراعظم ،گورنرز اوروزرائے اعلیٰ سمیت سب کو نکلنا چاہیے تھا ،اگر حکومت کا فوکس عوام و ملک ہوتی تو صورتحال یہ نہ ہوتی۔